سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے مقاومتی تحریک انصاراللہ کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ
شیعیت نیوز: گذشتہ روز سلامتی کونسل میں یمن کے بحران کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے نمائندے عبداللہ المعلمی نے یمن کی مقاومتی تحریک انصاراللہ کو اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثی ملیشیا نے لالچ اور سیاسی وجوہات کی بنا پر جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود عالمی برادری مقاومتی تحریک انصاراللہ رہنماؤں کو امن کی کوششوں سے ہم آہنگ ہونے کا ایک نیا موقع فراہم کرتی ہے۔
عبداللہ المعلمی نے مزید کہا کہ مقاومتی تحریک انصاراللہ کو فوری طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہید جنرل سلیمانی امت اسلامیہ اور عالمی سطح کے شہید بن گئے، حسن نصر اللہ
سعودی عرب کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت میں دہرائے جا رہے ہیں، جب امریکی سرپرستی میں جارح سعودی اتحادی افواج نے مفرور یمنی صدر کو واپس لانے کی خاطر آٹھ سال سے یمن پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی جارح اتحاد یمن پر اپنی اس فوجی جارحیت کے نتیجے میں کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کر پایا، الٹا ہزاروں یمنیوں کو شہید اور زخمی کرنے، لاکھوں افراد بے گھر کرنے، ملک کے بنیادی ڈھانچے میں تباہی و پھیلاؤ نیز قحط اور متعدد امراض کے پھیلاو کا سبب بنا ہے۔
دوسری جانب سعودی عدالتی حکام نے عالم دین شیخ صفر الحوالی کے بچوں اور بھائی سمیت کچھ اندیشی قیدیوں کی سزاؤں میں مزید دس سال کی توسیع کر دی ہے۔
سعودی عدالت نے شیخ صفر الحوالی کے بھائی شیخ سعید الحوالی کی سزا بھی 4 سال سے بڑھا کر 14 سال کر دی۔
العالم نے مزید کہا کہ شیخ صفر الحوالی کے خاندان کے افراد کو حراست کے دوران شدید تشدد اور توہین کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خاندان کے افراد کو ان کے والد کی کتاب ’’ المسلمون و الحضاره الغربیه ‘‘ (مسلمان اور مغربی تہذیب) کی اشاعت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔







