سعودی اتحاد کا اقتصادی محاصرہ توڑنے کیلئے فوجی طاقت بروئے کار لانے پر غور کر رہے ہیں، یمن
شیعیت نیوز: دفاعی و سکیورٹی امور میں یمنی وزیراعظم کے معاون خصوصی جلال الرویشان نے "نہ جنگ اور نہ صلح” جیسی صورتحال میں اور جنگ بندی کے باوجود سعودی اماراتی جارح عرب اتحاد کے ٹھکانے اب بھی یمن کی مسلح افواج کے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جارح عرب اتحاد سے مقابلہ کرنے اور یمنی عوام کے حقوق واپس لینے کیلئے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ جلال الرویشان نے المسیرہ نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "ان آپشنز کے زیر غور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یمنی قوم دفاع کی حالت میں ہے۔” یمن کے نائب وزیراعظم نے سعودی اماراتی جارح عرب اتحاد کو خبردار کیا کہ یمن اپنے ایئرپورٹس اور بندرگاہوں کے خلاف جاری اقتصادی محاصرے کو ختم کرنے کیلئے فوجی طاقت بروئے کار لانے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم جنس پرستی کے فروغ کیلئے عالمی سامراج امریکا کا ایک اور شرمناک اقدام
دفاعی و سکیورٹی امور میں یمنی وزیراعظم کے معاون خصوصی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ محاصرے اور اقتصادی جنگ کے ذریعے یمنی قوم کو شکست دینے کا خواب ہر گز پورا ہونے والا نہیں ہے، کہا کہ جارح عرب اتحاد نیند کی حالت سے باہر آ جائے۔ یاد رہے یمن کی قومی نجات حکومت ایسی جنگ بندی چاہتی ہے جس کا نتیجہ ہمیشگی امن کی صورت میں ظاہر ہو لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد امریکہ کے حکم پر ایسی جنگ بندی برقرار کرنے کے درپے ہے جس کی مدد سے وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کر سکے اور یمنی عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ پائے۔







