قابض اسرائیلی حکام نے دو مکانات اور ایک نرسری مسمار کردی
شیعیت نیوز: کل پیر کو قابض اسرائیلی حکام نے الخلیل کے مشرق میں جبل جوہر کے قریب خلہ العیدہ میں فلسطینیوں کے دو مکانات مسمار کر دیئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی حکام نے خلہ العیدہ پر دھاوا بولا اور شہریوں سمیر عبدالوہاب جابر اور محمد غریب دیب جابر کے مکانات مسمار کر دیا۔
یہودی بستیوں کے خلاف سرگرم کارکن عارف جابر نے وضاحت کی کہ مسمار شدہ ہر گھر کا رقبہ 120 مربع میٹر ہے اور ان میں 12 افراد رہتے ہیں۔ وہ سب کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی صحافی کی کویتی شخصیت کو بلیک میل کرنے کی کوشش ناکام
دریں اثناء کل پیر کو اسرائیلی قابض فوج نے ایک نرسری کو مسمار کر دیا اور مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں الجیب قصبے سے تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
الجیب کے میئر سامر عبد ربہ نے بتایا کہ اسرائیلی قابض فوج نے قصبے کے الخلایلہ محلے پر دھاوا بول دیا۔ تلاشی کے دوران ابراہیم احمد عبد الوہاب کی نرسری کو مسمار کر دیا اور ان کے دو بیٹوں مصطفیٰ اور محمد کو گرفتار کر لیا۔ نوجوان جہاد احمد شقیرات کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
عبد ربہ نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں کی مدد سے محمود علقم کے کی 60 میٹر لمبی پتھر کی دیوار کو گرا دیا۔
سوموار کو اسرائیلی قابض فوج نے الخلیل کے جنوب میں یطا قصبے میں بادیہ کمیونٹی میں واقع خشم الکرم اسکول کو مسمار کرنے کا نوٹس جاری کیا۔
مسافر یطا اور جنوبی الخلیل میں دفاع اراضی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فواد العمور نے بتایا کہ اسرائیلی قابض فوج نے یطا قصبے کے مشرق میں واقع بادیہ کمیونٹی پر چھاپہ مارا اور انہیں اسکول کو مسمار کرنے کا نوٹس دیا۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اسکول کو 96 گھنٹے کے اندر اندر مسمار کرنا ہے۔







