غرب اردن: فلسطینیوں کے یہودی آباد کاروں پر پٹرول بم حملے
شیعیت نیوز: اتوار کی شام مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے یہودی آباد کاروں پرپتھراؤ کیا اور ان پر پٹرول بم حملے کیے جس کے نتیجے میں آباد کاروں کی بسوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
عبرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اتوار کی شام فلسطینی نوجوانوں نے "کرمی زور” بستی کے چوراہے کے جنوب میں "گش عیتزیون” بستی کی سڑک پر ایک آباد کار بس پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکے۔
ذرائع نے بتایا کہ نابلس کے جنوب میں واقع حوارہ میں پتھراؤ اور پٹرول بم حملے کے بعد آباد کاروں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
بحیرہ مردار کے قریب عین جدی اور متسپیہ شالم کے درمیان ایک آباد کار بس پر بھی پتھروں سے حملہ کیا گیا۔
یہ اس وقت ہوا جب نوجوان الخلیل شہر میں ایک بستی میں گھسنے، ایک آباد کار کو مارنے اور پھر آباد کار کے زرعی آلات کو تباہ کرنے کے بعد پیچھے ہٹنے میں کامیاب ہوئے۔
گذشتہ ہفتے مغربی کنارے میں اسرائیلی قابض فوج اور آباد کاروں کے ساتھ مزاحمت اور تصادم جاری رہا، جس کے دوران ایک آباد کار ہلاک متعدد فوجی اور آباد کار زخمی اور 4 شہری شہید ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی اتحاد کے حملوں کے آغاز سے اب تک 18 ہزار سے زیادہ یمنی جاں بحق
دوسری جانب کینسر کی آخری سٹیج پر پہنچے اسرائیلی جیل میں فلسطینی قیدی ناصر ابو حمید کی جیل میں حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ 49 سالہ ابو حمید کے بارے میں اسریٰ میڈیا آفس نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ اس وقت انتہائی حالت میں ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابو حمید کے ہاتھ اور چہرے میں کینسر کے ‘ٹیومرز’ کی تشخیص ہوئی ہے۔
اشکلون کی اسرائیلی جیل میں ان کو اس قریب المرگ حالت میں دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ موجود فلسطینی قیدی بھی سخت صدمے کی حالت میں ہیں۔
ابو حمید یکم جنوری سے کینسر کے اس شدید تر ہو چکے عارضے کی وجہ سے برزیلائی میڈیکل سنٹر میں رکھے گئے مگر اب انہیں بدترین حالت میں ہونے کے باوجود پھر جیل منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں ان کی حالت تشویش ناک ہے۔
انہیں اسرائیلی جیل انتظامیہ نے جان بوجھ کر مناسب علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا ہے۔ جبکہ ان کی رہائی سے بھی انکار کیا ہے۔ انہیں کیمو تھراپی کی سہولت ملنے بھی مشکل آتی رہی۔ وہ 2002 سے اسرائیلی قید میں ہیں۔







