عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوادانی مستقبل قریب میں ایران کا دورہ کریں گے
شیعیت نیوز: عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوادانی نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کی دعوت پر مستقبل قریب میں ایران کا دورہ کریں گے۔ دوسری طر ف عراقی وزیرخارجہ فواد حسین نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات مستحکم ہیں، ٹرمپ کے ساتھ کبھی اتفاق نہیں کیا۔
ارنا رپورٹ کے مطابق، ایک با خبر ذریعے نے ارنا سے کہا کہ یہ دورہ صدر رئیسی کی دعوت سے ہوگا لیکن اس کی حتمی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوادانی نے ہفتہ کے روز کو عراق میں تعینات ایران کے سفیر محمد کاظم آل صادق سے ملاقات اور گفتگو کی۔
اس ملاقات میں ایرانی سفیر نے صدر رئیسی کی جانب سے السودانی کو دورہ ایران آنے کی دعوت دی اور اس کے علاوہ دونوں فریقین نے باہمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقی وزیر اعظم کے میڈیا آفس نے اعلان کیا کہ اس ملاقات میں اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مشترکہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سیکورٹی کے معاملے میں عراق اور ایران کے درمیان ملاقاتیں اس طریقے سے جاری رہنی ہوں گی جس سے دونوں ممالک کی خودمختاری کا تحفظ ہو، دونوں دوست ممالک کے مفادات کا تحفظ ہو اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو تقویت ملے۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک کی دھمکی کیلیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، عمار حکیم
ایک ایسے وقت میں جب عرب میڈیا میں نومنتخب عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوادانی کے قریب الوقوع دورہ ایران کے چرچے ہیں۔
عراقی وزیرخارجہ فواد حسین نے بھی ایران مخالف امریکی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عراق و ایران کے درمیان مستحکم برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔
بحرینی روزنامے الوطن کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں عراقی وزیرخارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ عراق کے برادرانہ تعلقات انتہائی مستحکم ہیں جبکہ بغداد نے ہمیشہ ہی تہران کے ساتھ استوار اپنے انتہائی قریبی تعلقات کے ذریعے (خلیج فارس) تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ ایرانی تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔
فواد حسین نے تاکید کی کہ عراق نے (گذشتہ امریکی صدر) ٹرمپ کی ایران مخالف سیاست کے ساتھ کبھی اتفاق نہیں کیا تاہم ایران و امریکہ کے درمیان موجود تناؤ نے ہمیشہ ہی عراق کا رخ کیا ہے۔
اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے تہران۔ریاض مذاکرات میں بغداد کے مرکزی کردار کی جانب بھی اشارہ کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران و سعودی عرب جب بھی مذاکرات کی بحالی کو تیار ہوئے، بغداد اس درمیان مدد کے لئے ہمیشہ آمادہ ہے۔







