الحدیدہ میں سعودی اتحاد کے حملے میں ایک یمنی چھوٹی بچی شہید، چار افراد زخمی
شیعیت نیوز: یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جارح سعودی اتحاد کے کرائے کے فوجیوں نے الحدیدہ کے شمال میں حیس شہر کے شمال میں ایک یمنی شہری کے گھر کو نشانہ بنایا۔اس حملے میں ایک چھوٹی بچی شہید اور اس کے خاندان کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق، سعودی امریکی فوجی اتحاد نے صوبہ الحدیدہ کے شہر حیس کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایک چھوٹی بچی شہید اور چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی برادری کی خاموشی کے درمیان سعودی امریکی فوجی اتحاد، یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور سات سال سے جاری اس جارحیت میں آٹھ ہزار کے قریب کم سن یمنی بچے شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔
سعودی کرائے کے فوجیوں کا یہ جرم یمنی شہریوں کے خلاف سعودی اتحاد کے جرائم کا تسلسل ہے جو عالمی برادری کی خاموشی کے درمیان اس ملک کے مختلف صوبوں میں ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کو سعودی صحافی خاشقجی کے معاملے میں بن سلمان کو استثنیٰ دینے پر شرم آنی چاہیے
انتصاف نامی انسانی حقوق مرکز کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یمن کے خلاف سعودی امریکی جارحیت کے آغاز سے لیکر اب تک تین ہزار آٹھ سو یمنی بچے شہید اور چار ہزار دو سو چھپن بچے زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی جارحیت میں تقریبا چھے ہزار عام شہری جسمانی طور پر معذور ہوئے ہیں جن میں پانچ ہزار پانچ سو سے زائد بچے ہیں۔
انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم کی مرتب کردہ رپورٹ میں آیا ہے کہ اسکول جانے کے قابل تقریبا ایک کروڑ یمنی بچوں میں سے چوبیس لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔
یمنی قوم کی ہمہ گیر ناکہ بندی اور محاصرے کے سبب پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا تئیس لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ میں امریکہ کی حمایت اور متحدہ عرب امارات نیز بعض دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اور مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی ، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔







