جھوٹ اور افواہیں پھیلانے والے عناصر منافقین کی مانند ہیں، صدر ایران
شیعیت نیوز: ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ جھوٹے اور افواہیں پھیلانے والے عناصر منافقیں کی مانند ہیں جو عقل و شعور کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جھوٹ بولنے والے اور افواہیں پھیلانے والے عناصر چھوٹی چھوٹی کمزوریوں کو بڑا ظاہر کرنے اور مضبوط پوائنٹ کو معمولی اور چھوٹا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسی تشہیراتی جنگ کا حصہ ہے کہ آج جس کا سامنا ہے۔
مہسا امینی کی موت کے بہانے سے ایران میں حالیہ شروع ہونے والے بلووں کے بعد سے ایران مخالف ٹی وی چینلوں خاصطور سے ایران انٹر نیشنل نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور افواہیں پھیلائیں نیز جھوٹا پروپیگنڈہ کیا اور اسی طرح مختلف ایرانی قوموں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ اور بیس علیحدگی پسندوں کے کم از کم پچاس بار انٹرویو کئے جبکہ بی بی سی بھی ایران مخالف چینلوں میں اپنا منافقانہ کردار ادا کرنے میں کسی سے کم نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں : مغربی ریاستوں کا اقوام متحدہ میں ایران مخالف سیاسی قرارداد کے حق میں ووٹ
دوسری جانب ایرانی صدر مملکت نے سیکورٹی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے خوزستان کے شہر ایذہ میں دہشت گردی کے اس واقعے کے مرتکب افراد کی شناخت کا پتہ لگائیں اور انہیں گرفتار کرکے عدلیہ کے حوالے کریں۔
یہ بات علامہ سید ابراہیم رئیسی نے بدھ کے روز اس صوبے کے گورنر کے ساتھ ایک ٹیلی فونگ رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے سیکیورٹی اداروں سے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کی فوری تحقیقات کرکے انہیں سزا کے لیے عدلیہ کے حوالے کیا جائے۔
علامہ رئیسی نے اس حادثے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی حالت کے بارے میں تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ شہر ایذہ میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں 5 شہری شہید اور 10 زخمی ہوئے۔
آوروں نے، جو دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق 17:30 بجے فوجی ہتھیاروں (کلاشنکوف رائفلز) کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی میں شہریوں پر فائرنگ کی۔
زخمیوں میں داخلی سیکورٹی فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں اور بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
شہداء کی کل تعداد 5 افراد، 3 مرد، ایک عورت اور ایک چھوٹی بچی ہے۔







