سوڈان میں عبدالفتاح البرہان اور متحدہ عرب امارات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے
شیعیت نیوز: ہزاروں سوڈانی مظاہرین نے منگل کے روز اس ملک کے دارالحکومت میں فوج کے کمانڈر اور سوڈانی گورننگ کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے خلاف مظاہرہ کیا۔
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سوڈانی پولیس نے ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جو ایک بار پھر فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان کے خلاف نکل آئے، جو سوڈانی خود مختاری کونسل کے سربراہ ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق خرطوم میں جنرل البرہان کے صدر دفتر صدارتی محل کی طرف مارچ کرنے والے ہجوم نے "فوجی حکمرانی نہیں” کے نعرے لگائے۔
ایک خاتون مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک فوجی حکومت کا تختہ الٹ کر سویلین حکومت کے حق میں نہیں ہو جاتا۔”
اس رپورٹ کے مطابق ایک ہی وقت میں سوڈان کے مرکز اور مشرق میں ہزاروں سوڈانیوں کے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
سوڈان ہمیشہ ایسے لوگوں کے مظاہروں کا منظر ہوتا ہے جو سول اور جمہوری حکومت کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں اور عبدالفتاح البرہان کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، جو حزب اختلاف کے مطابق ایک طرح کی "فوجی بغاوت” ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے حالیہ فسادات کے لیڈروں کو آٹھ ممالک میں تربیت دی گئی تھی، ایرانی وزیر داخلہ
دوسری طرف سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف عوامی اعتراضات کے درمیان سیکڑوں مظاہرین نے دارالحکومت خرطوم میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے سامنے اکٹھا ہو کر ملک کے اندرونی معاملات میں اسکی مداخلت پر شدید احتجاج کیا۔
ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز سوڈانی مظاہرین نے متحدہ عرب امارات کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ انکے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کریں۔ مظاہرین نے اسکے ساتھ ہی غیر ملکی سفارتکاروں سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی بحران کے حل کے لئے جاری عوامی جد وجہد کے درمیان مداخلت پسندانہ اقدامات سے گریز کریں اور سفارتی آداب کے پابند رہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بعض دیگر ممالک کی اندرونی معاملات میں مداخلت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سول حکومت کا تختہ الٹ کر برسر اقتدار آنے والی فوجی حکومت بھی کمزور اور ناتواں ہیں۔
مظاہرے میں شریک عبد اللہ یعقوب نے ایران پریس کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ سوڈانی عوام کو نقصان نہ پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے سوڈانی عوام کو نقصان پہنچایا ہے اور وہ صرف اپنے مفادات کی فکر میں ہے۔







