فرانس میں باحجاب لڑکیوں کی حجاب کی ترغیب کے اقدامات تیز
شیعیت نیوز: فرانس میں دیگر لڑکیوں کی حجاب سے متعلق ترغیب کے لئے باحجاب لڑکیوں کی جانب سے عمل میں لائے جانے والے اقدامات تیز ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فرانس کی باحجاب لڑکیوں نے ٹک ٹاک کا استعمال کرکے اسکولوں میں اسلامی حجاب کے ساتھ کلاس میں شرکت پر پابندی سے متعلق مسائل کو حل کئے جانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ فرانسیسی اسکولوں میں سن دو ہزار چار میں حجاب پر پابندی کے قانون کو نظر انداز کئے جانے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دلا رہی ہیں۔
فرانس کی باحجاب طالبات کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں بھی ڈالی جا رہی ہیں جن میں تمام طالبات کو حجاب کے ساتھ کلاسوں میں شرکت کرنے اور یہاں تک کہ تعلیمی مراکز میں خفیہ طور پر نماز ادا کئے جانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
جیساکہ فرانس کے وزیر تعلیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئے تعلیمی سال میں حجاب پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور باحجاب طالبات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ چھتیس فیصد فرانسیسی اساتذہ اسکولوں میں طالبات کی جانب سے حجاب کئے جانے کے خلاف نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن دھماکے کا اصل ذمہ دار ہے، ماریا زاخارووا
دوسری جانب فرانس کی وزارت داخلہ نے ایک اور مسجد کو بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ فرانس میں گزشتہ دو سال سے مساجد کے خلاف مہم جاری ہے اور معاشرے کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں مساجد کو بند کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم اور اخبار لوفیگارو نے اطلاع دی ہے کہ وزارت داخلہ نے باس رین کے علاقے میں واقع اوبرنے مسجد کو بند کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
وزارت داخلہ نے مسجد کے امام پر انتہا پسندانہ سرگرمیاں کرنے اور فرانسیسی معاشرے کے خلاف دشمنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے کہ ان کے کئی بیانات جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔
فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانان نے بدھ کو ٹویٹ کیا کہ ملک کے صدر کی ہدایت کے مطابق نام نہاد اسلامی علیحدگی پسندی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے دو سالوں میں 23 مساجد کو بند کر دیا ہے۔
فرانس کی پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی نے ایک قانون پاس کیا ہے جسے جمہوری اقدار کے احترام کو مضبوط کرنے کا اصول کا نام دیا گیا ہے، جو دراصل فرانس میں اسلام کے خلاف ملک گیر مہم شروع کرنے کا قانون ہے۔
اس قانون پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے جو فرانس میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑے مسائل اور حدود پیدا کر رہا ہے، قانون میں کہا گیا ہے کہ مساجد اور ان کو چلانے والی تنظیموں پر کڑی نظر رکھی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ مسلمانوں سے وابستہ تنظیموں کو کس طرح مالی امداد دی جارہی ہے۔







