تیل نکالنے والی کمپنیاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے نکل جائیں، یحییٰ سریع کا انتباہ
شیعیت نیوز: یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کل شام ٹویٹ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کام کرنے والی تیل کی کمپنیوں کو جلد از جلد ان ممالک سے نکلنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔
یحییٰ سریع نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ یمنی مسلح افواج سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور ان ممالک کو ترک کریں۔
یہ انتباہ امریکی-سعودی جارح اتحاد کے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہ کرنے تک موجود ہے، جو ملت یمن کو اپنی تیل کی ثروت سے استفادہ کرنے اور اپنے لوگوں کی تنخواہیں ادا کرنے کا حق نہیں دے رہے۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ یمن میں اس سال دو اپریل کو فریقین کی رضامندی سے دو ماہ کے لئے جنگ بندی کا آغاز ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : آئی ایس او ملتان کے زیراہتمام اسرائیل مردہ باد ریلی، اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی
اقوام متحدہ کے نمائندے کے اعلان کے مطابق اس جنگ بندی کے معاہدے میں دو بار توسیع ہوچکی ہے۔ اس معاہدے کی آخری مدت گذشتہ روز دو اکتوبر کو ختم ہوچکی ہے۔
صنعاء حکومت نے یمنی عوام کی مشکلات میں کمی کی وجہ سے اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی تھی، حالانکہ جنگ بندی کے باوجود سعودی اتحاد نے یمن کا محاصرہ جاری رکھا اور روزانہ کی بنیاد پر یمن پر حملے کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایلچی برائے یمنی امور ہانس گرینڈ برگ نے اتوار کی شام جنگ بندی کے لئے ہونے والے مذاکرات میں ناکامی کا اعلان کیا ہے۔
عرب میڈیا نے ہانس گرینڈ برگ کا بیان جاری کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ ہمیں جنگ بندی کے لئے ہونے والے مذاکرات میں ناکامی پر افسوس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جلد کسی نتیجے تک پہنچنے کے لئے فریقین سے بات چیت جاری رکھیں گے۔
اقوام متحدہ کے اس اہلکار نے خبر دی ہے کہ انہوں نے یکم اکتوبر کو ہونے والے مذاکراتی دور میں فریقین کو چھ مہینے کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، اس کے علاوہ جنگ بندی کے معاہدے میں کچھ دیگر نکات کا بھی اضافہ کیا ہے۔







