یمن

یمن- سعودی سرحدی علاقے عسیر پر زوردار دھماکہ، حکام خاموش

شیعیت نیوز: جنوبی سعودی عرب اور یمن کے سرحدی علاقے عسیر کے قریب زوردار دھماکے کی خبر ہے۔

مقامی ذرائع نے سعودی عرب کے جنوب میں واقع سرحدی علاقے عسیر میں زور دار دھماکوں کی اطلاع دی ہے ۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز صبح سعودی عرب کے جنوبی علاقے اور یمن کی سرحد کے قریب واقع علاقے عسیر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

الخبر الیمنی ویب سائٹ کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی نشر کی ہیں، تصاویر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک پاور اسٹیشن میں آگ لگی ہوئی ہے۔

علاوہ ازیں رہائشیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے کئی سوالات کے باوجود مقامی حکام نے ابھی تک ان دھماکوں کی وجہ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔ سعودی اخبار "طقس العرب” نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکے بجلی گھر پر بجلی گرنے سے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : امید ہے عراق میں ایک مضبوط حکومت تشکیل پائے گی، صدر ڈاکٹر رئیسی

جازان اور نجران کے علاقوں کے ساتھ جنوبی سعودی عرب کا عسیر علاقہ یمنی جنگ کے سات سال کے دوران بارہا یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوابی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

تاریخی پس منظر کے لحاظ سے یمنی ان تینوں علاقوں کو یمنی سرزمین کا حصہ اور سعودی حکومت کے زیر قبضہ علاقہ قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب المسیرہ نیوز نے خبر دی ہے کہ یمن کے دار الحکومت صنعاء میں 21 ستمبر کے انقلاب کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر السبعین اسکوائر پر عظیم الشان فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پریڈ میں یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط اور دیگر اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت اور رہنماوں نے شرکت کی۔

پریڈ کے دوران یمن کی مسلح افواج نے مختلف دفاعی سسٹمز اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ڈیٹرینس ہتھیاروں کی نمائش سمیت بلیسٹک اور اسٹرنگر میزائل، ڈرون طیارے، ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم اور سمندری میزائلوں کو بھی نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button