جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا میں شدید جھڑپیں، درجنوں فوجی ہلاک

15 ستمبر, 2022 08:53

شیعیت نیوز: جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک بار پھر جنگ شروع ہوگئی ہے۔

متنازع علاقے نگورنو – قرہ باغ ایک بار پھر جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کی فوجوں کا میدان جنگ بن گیا۔ دونوں جانب سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں مجموعی طور پر درجنوں فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ شب آذربائیجان کے فوجیوں کی گولہ باری میں 49 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ جمہوریہ آذربائیجان کا دعوی ہے کہ آرمینیا کی فوج کے حملے میں اس کے 50 فوجی ہلاک ہوئے۔

نگورنو – قرہ باغ میں جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے فوجوں کے درمیان گھمسان کی جھڑپ جاری ہے۔ یہ 2020 کے سیز فائر اور آرمینیا کے پسپا ہونے کے بعد کی سب سے بڑائی لڑائی ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ آذربائیجان نے توپ خانے اور آتشیں اسلحے کے ساتھ نگورنو- قرہ باغ پر حملے کیے۔ علاوہ ازیں گورس، سوٹک اور جرموک کے شہروں پر بھی آرمینیا کے فوجی ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔

یہ بھی پڑھیں : سید نصر اللہ کی خاموشی سے واشنگٹن اور تل ابیب پریشان کیوں ہیں؟

دوسری جانب آذربائیجان نے آرمینیائی افواج پر سرحدی اضلاع دشکیسان، کیلبازار اور لاشین کے قریب بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھانے اور ہتھیار جمع کر کے بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2020 میں ایک ماہ کی جنگ میں 300 سے زائد ہلاکتوں کے بعد روس کی ثالثی میں آرمینیا اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان سیز فائر ہوگیا تھا اور اکثر علاقوں سے آرمینیا نے فوجیں ہٹالی تھیں۔

دوسری جانب آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پھر سے جنگ شروع ہونے اور دونوں فریق کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد روس نے کہا ہے کہ امن کے قیام کے لئے دونوں فریق کو سخت طولانی راستہ طے کرنا پڑے گا۔

روسی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار ڈینس گنجار نے بدھ کے روز کہا کہ سہ فریقی معاہدے کے نفاذ کے لئے روس بدستور کوشش کر رہا ہے اور اس تناظر میں اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ باکو اور ایروان کے درمیان معاہدے کے نفاذ کے لئے ماسکو، ہر ممکنہ مدد کرنے کو تیار ہے۔

6:02 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top