صیہونی وزیر جنگ کے گھر سے گرفتار ہونے والے مبینہ جاسوس کو سزا سنا دی گئی
شیعیت نیوز: صیہونی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر جنگ کے گھر سے ایران کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے عومر گورین کو سزا سنا دی گئی ہے۔
اسرائیلی روزنامے معاریو کے مطابق غاصب صیہونی شہر ریش لتسیون کی اعلی عدالت نے بینی گینٹز کے گھریلو چپڑاسی کے خلاف دائر مقدمے، جس کے مطابق اس نے ایرانی ذرائع تک اہم اطلاعات پہنچانے کی کوشش کی تھی، میں اسے 3 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوس تنظیم شاباک نے گذشتہ سال نومبر میں عومر گورین کی گرفتاری پر دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانی ذرائع کے ساتھ رابطہ برقرار کر کے بینی گینٹز کے گھر میں اپنی ملازمت کے حوالے سے انہیں مدد فراہم کرنے اور اہم اطلاعات پہنچانے کی پیشکش کی تھی۔
شاباک نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی ذرائع کے ساتھ رابطے کے بعد عومر گورین نے بینی گینٹز کے کمپیوٹر میں جاسوس سافٹویئر داخل کرنے کی منصوبہ بندی بھی بنائی تھی جسے مبینہ طور پر ناکام بنا دیا گیا تھا۔
اسرائیلی جاسوس تنظیم کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملازم نے دوران تفتیش صیہونی وزیر جنگ کے گھر کے مختلف حصوں کی بنائی گئی تصاویر کے ایرانی ذرائع کو ارسال کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین کا موجودہ فرمانروا صہیونی ایجنٹ ہے، ابراہیم العرادی
دوسری جانب غاصب صیہونی عبوری وزیراعظم یائیر لیپڈ کا کہنا ہے کہ اس بات کے جاننے میں ابھی وقت لگے گا کہ کیا ہم ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کو روکنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔
صیہونی وزارت خارجہ کے مطابق یائیر لیپڈ نے نواتیم ایئربیس کے دورے کے دوران ایرانی جوہری معاہدے کے بارے بھی گفتگو کی اور دعوی کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ میں نے امریکی صدر کے ساتھ اتفاق کیا ہے؛ ایران کو ایک سنجیدہ جوہری خطرے میں بدلنے سے روکنے کے لئے جو مناسب سمجھیں گے انجام دیں گے۔
غاصب صیہونی وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی یائیر لیپڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا گیا تھا کہ انتخاباتی مہم اور گرمیوں کی چھٹیوں کے باوجود حکومتی کابینہ اپنے کام میں مصروف ہے۔
صیہونی وزیراعظم کا لکھنا تھا کہ وزیر جنگ بینی گینٹز کے ہمراہ، باری باری بدلنے والے عبوری وزیراعظم اور سکیورٹی سسٹم نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان خطرناک جوہری معاہدے کے دستخط کئے جانے کے خلاف ایک پرزور مہم چلا رکھی ہے۔







