اسرائیلی قابض فوج کے سرچ آپریشن میں دو بچوں سمیت تین فلسطینی گرفتار
شیعیت نیوز: پیر کی شام قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ میں دو بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایک نوجوان القدس سےگرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ایک فلسطینی خاتون کو قبلہ اول سے بے دخل کردیا گیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج نے کرم رائد عبدہ نامی نوجوان کو بیت المقدس کے جنوب مشرق میں جبل المکبر سے گرفتار کیا اور الہام نعمان کو مسجد اقصیٰ سے دو ماہ کے لیے نکال دیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس کی فلسطینی زمینوں سے منظم نقل مکانی کی پالیسی کے مطابق یروشلم کے مکینوں کو مسجد اقصیٰ سے گرفتار کرنے اور انہیں قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے ساتھ ساتھ غیر مجاز قرار دے کر فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل پیر کو قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمال مشرق میں دو بچوں کو گرفتار کیا۔
پریس ذرائع کے مطابق فورسز نے دونوں بچوں کو رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع سلواد قصبے کے مغربی دروازے کے قریب سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : مشکل کی یہ گھڑی ایثار اور بھائی چارے کا تقاضا کرتی ہے، علامہ راجہ ناصرعباس
دوسری جانب چھ سالہ فلسطینی فاروق ابوالناجا ہسپتال نہ جانے کی اسرائیلی قابض فوج کی حکمت عملی کے تحت علاج کے بغیر ایڑھیاں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر جاں بحق ہو گیا ہے۔ چھ سالہ بچے کے دماغ میں ٹیومر تھا جس کا علاج غزہ کے کسی ہسپتال میں مکن نہ تھا۔
غزہ کے داکٹروں نے فاروق ابوالناجا کو مقبوضہ بیت املقدس کے ہسپتال میں ریفر کیا تھا تاکہ بچے کا علاج ممکن ہو سکے۔ لیکن کئی ماہ گذرنے کے بعد بھی اسرائیلی قابض فوج نے بچے کو مقبوضہ بیت المقدس کے ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی۔
واضح رہے غزہ کے مقامی ڈاکٹروں نے اپنے ہاں بچے کے علاج کی سہولت نہ ہونے پر پہلی بار رواں سال 12 جنوری کو ریفر کیا تھا ۔ لیکن مسلسل کئی ماہ کی کوشش کے باجود اسرائیلی فوج نے ہسپتال لے جانے کی بچے کے والدین کو اجازت نہ دی، اب غزہ کے ڈاکٹروں نے 10 اگست کو دوبارہ ریفر کیا کہ بچے کی حالت زیادہ بگڑرہی ہے اسے مقبوضہ بیت المقدس میں متعلق ماہر داکٹروں کو دکھایا جائے، مگر اسرائیلی قابض فوج کا انکار جاری رہا۔ نتیجتا گذشتہ روز چھ سالہ بچہ بغیر علاج کے جاں بحق ہو گیا۔







