مجلس عزا کو لہو لہان کرنے والے وقت کے یزید اور استکبار کے آلہ کار ہیں، آیت اللہ سید رئیسی

07 اگست, 2022 04:42

شیعیت نیوز: ایران کے صدر آیت اللہ سید رئیسی نے آج صبح قومی ادارہ براے انسداد کرونا کے اجلاس میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کے ایام شہادت کی مناسبت سے تسلیت و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کابل بم دھماکے کو افغانستان میں تفرقہ پھیلانے والوں اور امریکہ و صہیونی رجیم کے آلہ کاروں کی سازش کا ساخشانہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے افغانستان میں مجلس عزا کو لہو لہان کیا ہے وہی وقت کے یزیدی اور اسکتبار کے آلہ کار ہیں جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلانے کے درپے ہیں۔ افغانستان پر برسر اقتدار قوتوں کو چاہئے کہ ان مجرمین کو پہچانے اور افغانستان کے تمام عوام کی سلامتی کو یقینی بنائے۔

ایرانی صدر نے غزہ پٹی میں ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ جرائم کی مذمت کی اور فلسطینی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے صہیونی ریاست کے جرائم کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کو اس رجیم کی تباہی میں تیزی میں مددگار قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں : عزاداری ، اہل بیتؑ کی محبت اور ولایت کو نئی نسل تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، رہبر معظم

ارنا رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ رئیسی سید ابراہیم رئیسی نے بروز ہفتے کو کورونا روک تھام کی قومی کمیٹی کے اجلاس کے دوران، حالیہ دنوں کی اہم تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست نے کل رات میں ایک بار پھر اپنی جارحیت اور تسلط پسندی کی نوعیت کو دنیا کے سامنے مظاہرہ کیا لیکن فلسطینی عوام کی مزاحمت، بچوں کو قتل کرنے والی اس رجیم کی تباہی میں تیزی میں مددگار ثابت ہوگی۔

آیت اللہ سید رئیسی نے مزید کہا کہ غاصب صہیونی رجیم نے گزشتہ رات کی مجرمانہ کاروائی کر کے دنیا والوں کو ایک مرتبہ پھر اپنا قابضانہ اور جارحیت پسند مزاج دکھایا ہے تاہم غزہ کے عوام کی مقاومت اس معصوم بچوں کی قاتل رجیم کی نابودی کو تیز کردے گی۔

در ایں اثنا صدر مملکت نے عزاداری اور مجالس امام حسین (ع) میں لوگوں کی وسیع پیمانے پر شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عوام اپنی دینداری اور ولایت پسندی کی بنیاد پر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو شان و شوکت کے ساتھ مناتی ہے اور ضروری ہے کہ تمام لوگ عزاداری کی رسومات، جالس عزا، جلوس اور ماتمی دستوں میں صحت کے اصولوں کی بھی سنجیدگی سے مراعات کریں۔

5:57 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top