عراق

حکومت تشکیل دینے کے لئےعراقی وزیراعظم کی سیاسی جماعتوں کو دعوت

شیعیت نیوز: عراق کے وزیراعطم مصطفی الکاظمی نے اپنے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر حکومت تشکیل دینے کیلئے بھرپور کوشش کریں۔

عراق کے وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ ان کی حکومت نئی حکومت کی تشکیل تک اپنا مشن اور سرگرمیاں جاری رکھے گی اور اسی لئے عراق کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر حکومت تشکیل دینے کی بھرپور کوشش کریں۔

انھوں نے کہا کہ عراقی مفادات کو سب پر فوقیت حاصل ہے اور اسی پالیسی پر ان کی حکومت نے عمل کیا ہے اور یہ پالیسی بدستور جاری رہے گی اور یہ کہ عراقی مفادات اور نیک نیتی کی بنیاد پر ہم اپنے شرکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے خواہاں ہیں۔

عراقی وزیراعظم نے اپنے دورہ ریاض اور تہران کو نہایت خوشگوار قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے دورہ ایران میں مشترکہ موضوعات اور توانائی اور آبی مسائل پر گفتگو کی اور ہمارے ایرانی بھائیوں نے توانائی کے اپنے وزیر کو دورہ عراق پر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

مصطفی الکاظمی نے اسی طرح کہا کہ ان تعلقات اور توازان نے عراقیوں اور پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ عراق اپنی تاریخی بنیاد رکھتا ہے اور اس کا مقام و پوزیشن تعلقات کی تعمیرنو میں مدد فراہم کرے گی تاکہ علاقے میں استحکام پیدا ہو اور تمام ممالک جنگ یوکرین کے منفی اثرات مرتب ہونے کی روک تھام کر سکیں اور اس سلسلے میں باہمی تعاون کریں۔

یہ بھی پڑھیں : کیا عراقی حکومت، اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والی ہے؟ سید مقتدیٰ الصدر میدان میں

اس درمیان الفتح الائنس کے سینیئر رکن معین الکاظمی نے تمام سیاسی گروہوں سے اتحاد و یکجہتی کا تحفظ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عراق میں ایک باوقار اورمضبوط حکومت کی تشکیل کے لئے مفاہمت پیدا کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امریکہ اور بیرونی جارحیت کا ڈٹ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

معین الکاظمی نے ایک بیان میں کہا کہ عراق کے پیچیدہ حالات کے پیش نظر ایک قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بیرونی ملک کی جانب سے خواہ وہ امریکہ یا ترکی یا کوئی اور ملک ہی کیوں نہ ہو کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے اور اسے عراق کا قومی اقتدار اعلی کا احترام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

الفتح الائنس کے سینیئر رکن نے کہا کہ عراق کی تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو چاہئے کہ قومی مفادات کی خاطر ادھر ادھر کا رجحان ختم کریں اور ملک میں ایک قومی مفاہمتی حکومت تشکیل دیئے جانے پر توجہ مرکوز کریں تاکہ خاصطور سے امریکہ و ترکی کی جارحیت کے مقابلے میں مضبوط اور متحدہ سیاسی موقف اختیار کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے مسئلے پر مختلف گروہوں میں اتفاق رائے پیدا نہ ہوپانے کی بنا پر انتخابات کے نتائج کے اعلان کو سات ماہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اب تک کسی وزیراعظم اور صدر کا انتخاب عمل میں نہیں آسکا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں صدر دھڑے کے اراکین کے مستعفی ہوجانے سے ملک کی سیاسی صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button