آئی ایس او کراچی کے تحت عارف کامل مولانا آغا جعفر نقویؒ کی مجلس برسی کا انعقاد، شاگردان کا خطاب

18 جون, 2022 15:16

شیعیت نیوز: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام معلم اخلاق و عرفان، عارف کامل حضرت حجتہ الاسلام و المسلمین مولانا سید آغا جعفر نقویؒ کی برسی کے موقع پر امام بارگاہ مدینۃ العلم گلشن اقبال کراچی میں خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ سید صادق رضا تقوی، علامہ علی نقی ہاشمی، مصطفیٰ حیدر، غلام حسین و دیگر نے خطاب کیا۔ نشست میں آغا جعفر نقویؒ کے شاگردان سمیت شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مجلس برسی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ صادق رضا تقوی نے کہا کہ ہمیں مولانا آغا جعفر نقویؒ کی سیرت پر چلتے ہوئے اسی ہدف کے حصول کیلئے اپنی پوری زندگی گزارنی چاہیئے، جس کیلئے آغا جعفر نقویؒ تگ و دو کی، انقلاب اسلامی نے حقیقی اور اصلی عرفان اسلامی کو دنیا کے سامنے پیش کیا، آغا جعفر نقویؒ نے اپنے زیر تربیت افراد کو اسی حقیقی عرفان اسلامی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت آغا جعفر نقویؒ کا عرفان درحقیقت وہی عرفان تھا، وہی راہ بندگی، سلوک بندگی، روش زندگی تھا، جو حضرت امام خمینیؒ کا تھا، یہی وجہ ہے کہ حضرت آغا جعفر نقویؒ اور حضرت امام خمینیؒ میں بہت ساری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خط امام خمینیؒ کے تحت حضرت آغا جعفر نقویؒ نے اپنے آپ کو اس نہج پر پہنچایا کہ وہ مرجع خلائق ہوئے، خصوصاً نوجوان نسل کیلئے مرکز امید بنے اور نوجوان نسل بھی انتہائی عشق و شوق کے ساتھ آغا جعفر نقویؒ کے پاس جاتی تھی، ان سے کسب فیض کرتی تھی، ان سے درس لیتی تھی، اپنے مسائل کا حل تلاش کرتی تھی، ان میں جذب ہو جاتی تھی، لیکن حضرت آغا جعفر نقویؒ انہیں اپنی جانب نہیں بلکہ خدا کی جانب دعوت دیتے تھے، منزل نہیں بلکہ خدا تک پہنچنے کا واسطہ و وسیلہ بنتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: واہ کینٹ میں اتحاد بین المسلمین کی تقریب ، ایرانی ثقافتی کونسلر سمیت شیعہ سنی علماءکی شرکت

علامہ نقی ہاشمی مجلس برسی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ کی یاد کو تازہ کرنا، ان کے افکار کو زندہ رکھنا اور عمل پیرا ہونا انتہائی قابل تحسین عمل ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو پروردگار عالم ہمیں آغا جعفر نقویؒ جیسی مزید عارف کامل شخصیات عطا فرمائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ نے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد میں اسلام، قرآن، اہلبیتؑ، انقلاب اسلامی و امام خمینیؒ کی محبت بیدار کی اور حقیقی پیغام سے روشناس کروایا، انہوں نے نوجوانوں کو انقلاب اسلامی کے ان پہلوؤں کی معرفت دی، جو عموماً فراموش شدہ تھا، اللہ اکبر کو حقیقی معنوں میں نوجوانوں کو سمجھایا کہ وہ نوجوان دنیا کی تمام سپرپاورز اور انکے حواریوں کے سامنے ڈٹ گئے اور آج تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ علامہ نقی ہاشمی کا کہنا تھا کہ آج بھی اگر نوجوانوں کی جیبوں میں ترجمے والا قرآن نظر آتا ہے، تو اس بات کا سہرا بھی آغا جعفر نقویؒ کی سر جاتا ہے، جنہوں نے نوجوانوں میں اس روش کو متعارف کرایا، آغا جعفر نقویؒ نے نوجوانوں میں قرآن و نماز کو اس کے حقیقی پیغام و معرفت کے ساتھ زندہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ نے سمجھایا کہ عرفان کوئی الگ سے موضوع یا مضمون نہیں ہے بلکہ یہ ہر انسان کی زندگی کا لازمی جز ہے، جس کی طرف متوجہ ہونے پڑے گا، جس کا آغاز نماز سے ہوتا ہے اور خاتمہ بھی نماز پر ہوتا ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے ہی سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ علامہ نقی ہاشمی نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ مکمل طور پر حضرت امام خمینیؒ کی ذات میں ضم تھے، اس دور میں نوجوانوں کی کثیر تعداد کو امام خمینیؒ کی معرفت آغا جعفر نقویؒ کی وجہ سے ہوئی، ان کے تربیت یافتہ افراد آج بھی خط امام خمینیؒ پر گامزن ہیں

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تین فلسطینی نوجوانوں کے قتل کی شدید مذمت

مولانا سید آغا جعفر نقویؒ کے شاگرد مصطفیٰ عباس نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ کی یاد منانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کا طریقہ کار، اخلاقیات، کردار، اعمال، زبان سیکھیں، انکی شخصیت عملی طور پر سمجھنا ہوگی، جب ہی ہم شہید عارف حسینیؒ، امام خمینیؒ اور امام حسین علیہ السلام کو سمجھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ قرآن کریم و نہج البلاغۃ سے استفادے پر بہت زیادہ زور دیتے تھے، وہ لوگوں کو دور نہیں بلکہ نزدیک لاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ مرحوم کے نام لیواؤں کیلئے ضروری ہے کہ ہر لمحہ اپنا محاسبہ کرتے رہیں، ہر لمحہ اپنے کردار و اعمال و اخلاقیات کو بہتر کرنے کیلئے کوشش کرنا ہوگی۔ مصطفیٰ عباس نے کہا کہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کو اگر کوئی سمجھ سکا، اگر کوئی سمجھ سکا تو وہ فقط آغا جعفر نقویؒ مرحوم تھے، آغا جعفر نقویؒ قائد شہیدؒ کو سمجھ چکے تھے اور قائد شہید آغا جعفر نقویؒ کو سمجھ چکے تھے۔ آغا جعفر نقویؒ کے شاگرد غلام حسین نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ ایک شفیق باپ کی حیثیت سے تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ عملی رہنمائی اور مشکلات و پریشانی بھی دور کرتے تھے۔

انہوں نے کہا آغا جعفر نقویؒ ایک عارف کامل تھے، ان کی کوشش تھی کہ دیگر لوگ میں بھی خدا کی ایسی معرفت و محبت پیدا ہو، خدا کو اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں ایسے محسوس کریں کہ جیسے خدا کو دیکھ رہے ہوں، آغا جعفر نقویؒ کی کوشش تھی کہ لوگ عبادت میں کثرت کے بجائے خدا کی طرف بھرپور متوجہ ہوں اور فکر و عقل کو استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ آغا جعفر نقویؒ مرحوم کی کوشش رہی تھی کہ خدا انسان کے دل میں بس جائے۔ مجس برسی کا اختتام دعائے سلامتی امام زمانہ (ع) سے ہوا۔

1:37 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top