سکیورٹی فورسز اور شیعہ ٹارگٹ کلنک میں ملوث لشکر جھنگوی کا دہشت گردخودکش موٹرسائیکل سمیت گرفتار
شیعیت نیوز: سی ٹی ڈی نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم تخریب کار کو موٹر سائیکل میں نصب بم کے ساتھ گرفتار کرلیا ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق مبینہ تخریب کار نے تفتیش کے دوران متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق تخریب کار کے گروہ میں 8 افراد شامل ہیں۔ جن کی جانب سے ماضی میں سکیورٹی اداروں پر حملے، ٹارگیٹ کلنگ، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائیاں ہوئی ہیں۔ گرفتار ملزم نے ان کارروائیوں کا اعتراف کر لیا ہے اور دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ مبینہ شخص سے اسلحہ، گولہ بارود اور ریموٹ کنٹرول ڈیوائس بھی برآمد کر لئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ شہنشاہ نقوی کا دعا زہرا کی والدین کو عدم حوالگی کی صورت میں ملک گیر احتجاج کا اعلان
ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تھی کہ دہشتگرد دھماکہ کرنے جا رہے ہیں۔ خفیہ اطلاع پر موٹر سائیکل سوار کو روکا اور چیک کیا گیا۔ چیک کرنے پر موٹر سائیکل میں IED نصب تھا۔ BD نے IED بم کو ناکارہ بنایا۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے کہا کہ ملزم کی شناخت نظام الدین عرف خالد کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ، سیشن کورٹ، ایف سی اور پولیس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ملزم نے بتایا ہے کہ 8 ساتھیوں پر مشتمل گروپ نے مختلف دہشت گرد کاروائیاں کیں۔ ڈی آئی جی ٹیلی حامد شکیل پر خودکش حملے میں یہی گروپ ملوث تھا۔ ملزم نے آر آر جی فورس کے ٹرک اور میکانگی روڈ ایف سی کی گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکے کا اعتراف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم داخلی خود مختاری چاہتے ہیں ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہونے چاہئیں واشنگٹن میں نہیں، علامہ راجہ ناصرعباس
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سرینا ہوٹل کار پارکنگ میں خودکش دھماکے میں بھی یہی گروپ ملوث تھا۔ ملزم نے بی اے مال کے قریب پاک فوج کے ٹرک اور یونیورسٹی چوک سریاب میں بی سی پولیس کے ٹرک پر آئی ای ڈی حملے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق قندھاری بازار بخاری سینٹر کے باہر موٹر سائیکل ای آئی ڈی دھماکے میں بھی یہی گروپ ملوث تھا۔ سائنس کالج کے مین گیٹ پر جمعیت نظریاتی پر آئی ای ڈی دھماکہ بھی انہوں نے کیا تھا۔ سی ٹی ڈی نے مطابق ملزم نے فاطمہ جناح روڈ پر دکان میں ہزارہ کمیونٹی کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے مختلف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔







