شیعہ نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں جاری جبکہ شیعہ قتل عام میں ملوث تکفیری دہشتگردوں کی سزائے موت کالعدم
سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے دونوں ملزمان کوقتل میں سنائی گئی سزائے موت برقراررکھی ہے۔

شیعیت نیوز: شیعہ نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں جاری جبکہ شیعہ قتل عام میں ملوث تکفیری دہشتگردوں کی سزائے موت کالعدم ، سندھ ہائیکورٹ نے امام بارگاہ پردھماکے کے کیس میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے کارکنوں کی پھانسی کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔
جمعہ 20 مئی کو سندھ ہائی کورٹ نے ملزم اسحاق بوبی اورعاصم کیپری کی سزا کے خلاف اپیلیں منظور کرلیں۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے اکتوبر 2016 میں کراچی کے علاقے ایف سی ایریا میں امام بارگاہ پردھماکہ کیا تھا۔ دھماکےمیں فراز نامی شہری جاں بحق جب کہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ماتحت عدالت نےاسحاق بوبی اورعاصم کیپری کو دو،دو بار پھانسی کی سزا سنائی تھی۔پولیس کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمان کوعالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کے قتل سمیت متعدد مقدمات میں بھی سزا ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بغیر ثبوت الزامات ایران اور پاکستان کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کے درمیان خلل ڈالنے کی کوشش ہے، ایرانی سفارت خانہ
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی بارکے سابق سیکریٹری امیرحیدر شاہ کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات ختم کردیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم کے اسحاق بوبی اورعاصم کیپری کو کراچی بار کے سابق سیکریٹری امیر حیدر شاہ کے قتل کیس میں اپیلوں پرفیصلہ سناتے ہوئےان کی اپیلیں جزوی طورپرمنظورکرلیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے دونوں ملزمان کوقتل میں سنائی گئی سزائے موت برقراررکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انجمن غلامان امریکہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عوام امریکہ کی غلامی اور امریکہ کے غلاموں سے بیزار ہے، علامہ مقصود ڈومکی
ماتحت عدالت نے ملزمان کو دو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ ملزمان نے 30 اگست 2015 کو حسن اسکوائر پر وکیل امیر حیدر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ ملزمان کے خلاف نیو ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پراسیکیوشن کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 22 دسمبر2020 کو سزا سنائی تھی۔واضح رہے کہ ریاست کے دہرے معیار انصاف کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ ٹھوس ثبوتوں کے باوجود سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کے قاتلوں کی سزائے موت معاف ہورہی ہیں جبکہ محب وطن اور داعش کے خلاف جہادمیں حصہ لینے والے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کیئے جارہے ہیں۔