دنیا

لوہانسک مکمل آزادی کے دہانے پر ہے، روسی وزیر دفاع

شیعیت نیوز: روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ روس نے صوبہ لوہانسک پر اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے اور مستقبل قریب میں اس علاقے کو آزاد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس نے ماریوپول کی صورت حال کے بارے میں بھی بات کی: "1908 میں، یوکرینیوں نے ازوفسٹل سٹیل پلانٹ میں ہتھیار ڈال دیے۔” ازوف سٹیل پلانٹ یوکرین کا آخری فوجی اڈہ ہے جو روسی فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت ماسکو کے لیے خطرہ ہے۔امریکہ اور نیٹو کی نقل و حرکت کی وجہ سے ہماری مغربی سرحدوں پر سیکیورٹی خطرات بڑھ رہے ہیں۔

روس کے وزیر دفاع نے زور دیا کہ ماسکو مغربی سرحد پر نیٹو اور امریکی دھمکیوں کے جواب میں اور فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کے جواب میں خطے میں 12 نئے فوجی اڈے قائم کرے گا۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین کے حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے لوہانسک اور ڈونیٹسک کی ڈون باس جمہوریہ کی درخواست پر یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے ڈرونز کے خوف سے صیہونی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار

دوسری جانب روس کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے ماسکو کے خلاف کئے جانے والے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ روس، یوکرین کے گندم کی برآمدات کو روک رہا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے کہا ہے کہ یوکرین کے گندم کی برآمدات روکنے کے بارے میں کئے جانے والے سارے دعوے صرف قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کی برآمدات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور مسائل صرف اس بنا پر پیدا ہوئے ہیں کہ یوکرینی فوج نے بندرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

ماریا زاخا رووا نے کہا کہ روس نے انسان دوستانہ بنیادوں پر یوکرین کے گندم کی برآمدات اور غذائی اشیا کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین گندم اور مکئی کے دانے برآمد کرنے والا دنیا ایک اہم ملک ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد ان اشیا کی برآمدات میں کمی کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کی بنا پران اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button