اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

ملک بھرمیں غیر معمولی بارشوں کا امکان، متعلقہ حکام الرٹ، شہری خبردار

بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے کلائمٹ چینج شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی آؤٹ لک فورم نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے

شیعیت نیوز: مون سون کے موسم کی آمد کےساتھ ساتھ ملک میں کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں تو کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں،ایسے میں‌ ملک کے بیشتر حصوں میں مون سون کی بارشوں کے دورانیے میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، ملک میں رواں برس غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔حکام نے ابھی سے عوام الناس کو خبردار کرنا شروع کردیا ہے

بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے کلائمٹ چینج شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی آؤٹ لک فورم نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات پر نظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی بحرانی صورت حال ، ایم ڈبلیوایم نے مذہبی قیادت کو اکھٹا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسدعباس نقوی

وفاقی وزیربرائے کلائمنٹ چینج شیری رحمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ، شمالی اور شمال مشرقی بلوچستان میں زیادہ عرصے تک بارشیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سندھ میں کم بارشیں ہوں گی اور تھر پارکر اور عمر کوٹ میں قحط کی صورتحال ہوسکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے تیار رہیں

وفاقی وزیرشیریں رحمان کا کہنا تھا کہ حکام معمول سے زائد بارش کے پیش نظر احتیاطی تدابیراختیار کریں، تیز بارشوں سے جانوں اور انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ دوسری طرف دریائے سندھ میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہوگئی۔ کپاس کی فصل شدید متاثر ہونے لگی۔ کسان پریشان ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نےسردار قاسم سلیمانی کو کیوں شہید کروایا؟سابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نےسچ بتادیا

ادھر پاکستان میں پانی کی کمی کے حوالے سے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق رواں سال دریا میں پانی 50 فیصد سے زائد کم ہے، گڈو بیراج پر 60، سکھر پر 41 اور کوٹری بیراج پر 45 فیصد تک پانی کی کمی آئی ہے۔ بیراج سے نکلنے والی نہروں سے صرف پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں سے صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ کاشتکاروں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کیلئے پانی دستیاب نہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close