ایران

خطے میں غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگی بدامنی کا اصلی سبب/ ہمارا جواب دنداں شکن ہوگا

شیعیت نیوز: ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل تنگسیری نے خطے میں غیر علاقائی طاقتوں کی موجودگی کو بد امنی اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی سبب قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے ممالک کو منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دیا جائےگا۔

ایڈمرل تنگسیری نےخلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سے خلیج فارس کے دیگر ناموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کو پرشین گلف اور بحر الفارس بھی کہتے ہیں اور یہ نام قدیم تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خلیج فارس ہمیشہ سے اہم اور حساس علاقہ رہا ہے۔ 1508 عیسوی میں پرتگالی خلیج فارس میں آئے اور وہ 117 سال تک اس علاقہ میں موجود رہے ۔ 1622 عیسوی میں شاہ عباس صفوی کے دور میں امامقلی خان نے اس علاقہ کو پرتگالیوں سے واپس لیا اور اس کے بعد اس علاقہ میں انگریز پہنچ ہوگئے۔ 16 عیسوی سے 19 عیسوی تک انگریز اس علاقہ میں موجود رہے اور اس کے بعد امریکہ اس علاقہ میں پہنچ گیا ۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا مرحوم نادر طالب زادہ کے انتقال پر تعزیتی پیغام

انھوں نے کہا کہ یہ علاقہ تیل ، گيس ، ماہی گیری اور سیاحت کے حوالے سے اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ غیر علاقائی طاقتیں اس علاقہ پر تسلط جمانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔

ایڈمرل تنگسیری نے کہا کہ غیر علاقائی طاقتیں خطے میں بد امنی اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی سبب ہیں۔ اگر کسی ملک کی طرف سے ایرانی مفادات کو خطرات لاحق ہوئے تو ایران اسے منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دےگا۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر دفاع امیر مجید فخری نے خلیج فارس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس عالم اسلام کا دل ہے اور اس حقیقت پر خاص توجہ مبذول کرنی چاہیے۔

ایران کے نائب وزير دفاع نے خلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سے برپا نمائش کے دورے کے ضمن ميں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس جغرافیائی لحاظ سے اہمیت کا حامل علاقہ ہے ۔ خلیج فارس در حقیقت دنیائے اسلام کا قلب ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں تمام اقوام نے اپنا اہم نقش ایفا کیا ہے اور ایران میں تمام اقوام اور مذاہب کے پیروکار ملک و قوم کا دفاع کرنے کے لئےمصمم ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button