یورپی ممالک کا 73 روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم
شیعیت نیوز: یوکرین جنگ کے ردِعمل میں یورپی ممالک اٹلی، ڈنمارک، سویڈن اور اسپین نے کُل 73 روسی سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کردیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اس اقدام پر کریملن کے ترجمان ڈمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ متعدد یورپی ممالک سے روسی سفارت کاروں کی اس وسیع پیمانے پر بے دخلی ایک تنگ نظری کا ثبوت ہے جو ہمارے اور اُن کے درمیان مواصلات کو پیچیدہ بنا دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ لامحالہ انتقامی اقدامات کا باعث بنے گا۔
ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے بتایا کہ ان کا ملک 25 روسی سفارت کاروں کو بے دخل کر رہا ہے جو ملکی مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
سویڈن کے وزیر خارجہ این لِنڈے کے مطابق جاسوسی کے الزام میں تین روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا جائے گا۔
اسی طرح اٹلی کے وزیر خارجہ لوئیگی ڈی مایو نے کہا کہ ان کے ملک نے قومی سلامتی کے پیش نظر 30 روسی سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔
ڈنمارک نے کہا کہ اُس نے خود کو سفارت کار ظاہر کرنیوالے 15 روسی انٹیلی جنس افسران کو ملک چھوڑنے کے لیے 14 دن کی مہلت دی ہے۔
ادھر روس نے بھی یورپی ممالک کو جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے روس کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو منہ توڑ جواب دیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوج کے چیف کوچاوی کا دو ہفتوں میں فلسطینیوں کے 10 حملے ناکام بنانے کا دعویٰ
دوسری جانب چین نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کی ہائیپر سونک اسلحے اور الکٹرانک جنگ کی صلاحیت پیدا کرنے کی مشترکہ کوشش کے اعلان کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب جانگ جن نے منگل کے روز پریس بریفنگ میں کہا کہ جو بھی یوکرین کے بحران کو نہیں دیکھنا چاہتا اسے ایسے کام سے بچنا چاہیئے جو دنیا کے دوسرے حصے کو اس طرح کے بحران میں ڈھکیل سکتا ہے۔
انہوں نے اس چینی مثل کو پیش کرتے ہوئے ”جو چیز آپ پسند نہیں کرتے اسے دوسروں پر مت تھوپیئے“، ان تینوں ملکوں کے اسلحے تیار کرنے کے اُس مشترکہ منصوبے کی بابت انتباہ دیاجس کے لئے یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کا مقابلے کرنے کے نام پر جواز پیش کیا جا رہا ہے۔
چینی مندوب کا یہ بیان برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہوئے اس اعلامیہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن، امریکی صدر جو بائیڈن اور اسٹریلیائی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کے مابین آن لائن میٹنگ میں نیوکلیئر صلاحیت والے اسلحے کے سسٹم بنانے کے لئے سہ فریقی تعاون پر مفاہمت ہوئی ہے۔







