برطانیہ اور امریکہ نے یوکرین کی نو فلائی زون تجویز ٹھکرائی، کہا روس سے ٹکراؤ نہیں چاہتے
شیعیت نیوز: امریکہ اور برطانیہ نے یوکرین کے اوپر نو فلائی زون قائم کرنے کی ارئے کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سے سیدھے فوجی ٹکراؤ کی استطاعت نہیں ہے۔
واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اپنی برطانوی ہم منصب لز ٹراس کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ واشنگٹن اس تنازعہ کو بڑھانا نہیں، ختم کرنا چاہتا ہے۔
بلنکن نے نامہ نگاروں سے کہا کہ امریکی فوجیوں کو یوکرین بھیجنا یا امریکی پائلٹوں کو کسی بھی سطح پر یوکرین کی ہوائی حدود میں بھیجنا روس کے ساتھ امریکہ اور نیٹو کے سیدھے تنازعہ کا سبب بنے گا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ جائے گی جو موجودہ صورت حال سے زیادہ مہلک ہوگی اور وہ امریکہ اور یوکرین کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
نوفلائی زون ملکوں کو لوگوں کے گروہ پر حملے یا کچھ علاقوں میں پرواز سے روکنے کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ لز ٹارس نے بھی یوکرین کے اوپر نو فلائی زون کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ ٹراس نے نامہ نگاروں سے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ نو فلائی زون کا قائم ہونا روس اور نیٹو کے مابین سیدھے ٹکراو کا سبب بنے گا اور یہ وہ چیز ہے جو ہم نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ یوکرینی اپنے ملک کا خود دفاع کریں اور اینٹی ٹینک اسلحے اور اینٹی ایئر ڈیفنس سسٹم سب سے اچھا متبادل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اتوار کو امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو اور جونی ارنسٹ نے انتباہ دیا تھا کہ یوکرین پر نو فلائی زون قائم کرنا تیسری عالمی جنگ کا سبب بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں : یوکرین کو ادلب بنانے کی تیاری، یورپ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے، ریاض الحداد
دوسری جانب سوئیڈن کے وزیر دفاع نے انتباہ دیا ہے کہ اگر نیٹو کی افواج نے جنگ یوکرین میں مداخلت کی تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
سوئیڈن کے وزیر دفاع پیٹرہولٹکویسٹ نے دعوی کیا ہے کہ کریملن کے عزائم اور منصوبے بلند ہیں اور وہ صرف یوکرین پر قبضے تک ہی نہیں رکے گا۔ انھوں نے کہا کہ ماسکو ممکن ہے سابق سویت یونین کی ریاستوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہو۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ماسکو نے تاکید کی ہے کہ یوکرین میں آپریشن کا مقصد اسے غیرمسلح کرنا اور ڈونباس کی حفاظت کرنا ہے۔ سوئیڈن نے ناوابستہ تحریک کا رکن ہونے کی حیثیت سے اب تک اپنے فوجی یوکرین نہیں بھیجے ہیں لیکن یوکرین کے لئے ہتھیار بھیجنے میں مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہولٹکویسٹ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ جب تک وہ ملک کے وزیر دفاع رہیں گے اس وقت تک نیٹو میں شامل ہونے کی درخواست ہرگز نہیں کریں گے۔ سوئیڈن کی وزیر اعظم میگڈالنا اینڈرسن نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست ہمارے مدنظر نہیں ہے اور اس طرح کی صورت حال یورپ کو مزید غیرمستحکم کردے گی۔







