جبل المکبر میں فلسطینیوں کے 800 مکانات کی مسماری کا خطرہ

07 مارچ, 2022 07:02

شیعیت نیوز: مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں جبل المکبر میں فالو اپ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ شماریاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے قصبے میں 800 مکانات کو مسمار کرنے کا خطرہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بلدیہ  قصبے میں 800 ہاؤسنگ یونٹس کو مسمار کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس کے بدلے میں تجارتی مراکز اور 500 ہاؤسنگ یونٹس مشترکہ عمارتوں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ نئی تعمیرات یہودی آباد کاروں کے لیے کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کا خطرہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ جبل المکبر کے رہائشیوں کو مستقبل میں شہری توسیع سے محروم کر دے گا اور نوجوانوں کو القدس کے قصبوں کو چھوڑ کر شہر کے آس پاس کے علاقوں میں آنے پر مجبور کر دے گا۔

قابض صیہونی حکام کی جانب سے مسماری کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ روز سینکڑوں فلسطینیوں نے قصبے ’’جبل المکبر‘‘ کے مرکزی اسٹیڈیم میں نماز جمعہ ادا کی۔

یہ ایک آبادکاری کی سڑک ہے جو القدس کے جنوب مشرق میں صور باھر کے قریب مزموریا چوکی سے شروع ہو کر 12 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ یہ شمال میں الطور کے علاقے خاص طور پر الزائم ملٹری چیک پوائنٹ تک پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یوم شجرکاری کے موقع پر آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے پودا لگایا

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پچھلے دس سال کے دوران غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں میں قائم کی جانے والی غیر قانونی بستیوں میں صیہونیوں کی تعداد میں تینتالیس فی صد اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دسمبر دوہزار سولہ کو ایک قرارداد جاری کرکے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

سلامتی کونسل کی واضح قرارداد کے باوجود غاصب صیہونی حکومت، امریکہ اور مغربی ملکوں کی کھلی حمایت کے سائے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غرض سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے میں مصروف ہے۔

امریکہ اور مغربی ملکوں کی متعدد تعمیراتی کمپنیاں ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر میں بھاری سرمایہ لگا رہی ہیں اور انہیں کسی بھی عالمی ادارے کی جانب سے مالیاتی اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا نہیں ہے۔

روزنامہ شرق الاوسط کے مطابق، غرب اردن کی کونسل کے جاری کردہ اعداد شمار میں کہا گیا ہے کہ صرف غرب اردن کی صیہونی بستیوں میں آباد صیہونیوں کی تعداد پچاس لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار سے نشاندھی ہوتی ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی گھس بیٹھوں کی تعداد میں تینتالیس فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

3:32 صبح مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top