خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی، 48 گھنٹوں میں پورا نیٹ ورک سامنے لے آئیں گے، بیرسٹر سیف
شیعیت نیوز: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ نادرا کی مدد سے خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی، ساتھ ہی سہولت کاروں کا بھی پتہ چل گیا ہے، 48 گھنٹوں میں پورا نیٹ ورک میڈیا کے سامنے پیش کردیں گے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے پولیس حکام کے ہمراہ کوچہ رسالدار قصہ خوانی بم دھماکے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بمبار کی شناخت کرلی گئی ہے، پشاور بم دھماکا دوپہر ڈیڑھ بجے ہوا، دو پولیس اہلکار مسجد کی سیکیورٹی پر تعینات تھے، پولیس پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں حالاں کہ پولیس ڈیوٹی پر تھی اور جانوں پر کھیل گئی۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ پولیو کے حوالے سے بھی صوبے میں مہم جاری ہے اور پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہیں، پشاور ہی میں جمعہ کے روز ہندوؤں کے تہوار کی وجہ سے مندروں کے باہر بھی پولیس اہلکار موجود تھے، انٹیلی جنس میں خامی ہوسکتی ہے الرٹ ضرور تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پشاور کسی مسجد یا مکتب پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ ہے، مولاناطاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ خودکش بمبار کی شناخت کرلی گئی ہے اور اس حوالے سے نادرا کی مدد لی گئی ہے، خودکش بمبار نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا، تلاشی لینے والے پولیس اہلکار پر فائر کیا گیا، تنگ جگہ ہونے کی وجہ سے دھماکے سے زیادہ نقصانات ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ شواہد جمع کرلیے گئے ہیں اب تحقیقات جاری ہیں، خودکش بمبار کو لانے والے سہولت کاروں کی شناخت کی گئی اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا، اصل نیٹ ورک کو ہم 48 گھنٹوں میں میڈیا کے سامنے پیش کریں گے۔ تمام انٹیلی جنس ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، کئی واقعات کو انٹیلی جنس ادارے ناکام بھی بناتے ہیں جو منظرعام پر نہیں آتے، ہم کسی پر بھی انگلی نہیں اٹھاتے، سب ہی کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کے واقعات ہر ملک میں ہو رہے ہیں، بہتری کی گنجاش موجود رہتی ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ مذکورہ جامع مسجد پر حملے کے حوالے سے کوئی الرٹ نہیں تھا، ہم نے بم دھماکے کے حوالے سے گرفتاریاں کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ امامیہ مسجد پر پوری قوم افسرد ہ ہے، خوفزدہ ہونےوالے نہیں، غم میں برابر شریک ہیں، سربراہ سنی تحریک
سی سی پی او اعجاز خان نے کہا کہ پولیو مہم میں 5500 نفری تعینات تھی، نماز جمعہ اجتماعات پر بھی پولیس اہلکار تعینات تھے، شروع میں دو دہشت گردوں کی آمد کی اطلاع تھی لیکن ایک ہی خودکش بمبار تھا، پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سنبھالا اور اب بھی سنبھال لیں گے۔
سی سی سی پی او اعجاز خان نے کہا کہ شہر میں مجموعی طور پر سکیورٹی ہائی الرٹ تھی، پولیو مہم میں 5 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، شہر کے تمام مذہبی مقامات کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، اندرون شہر کے مندروں کو بھی سیکیورٹی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی، پشاور پولیس اور حساس اداروں پر مشتمل ٹیم نے موقع سے اہم شواہد حاصل کیے ہیں، جائے وقوع کے اطراف میں پانچ کلومیٹر تک سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے تجزیہ کیا گیا، جائے وقوع اور اطراف میں جیو فسنگ بھی کی گئی۔







