سانحہ پشاو رکے 14شہداء کے جسدخاکی پاراچنار پہنچے پر احتجاج
شیعیت نیوز: پشاور کی مسجد میں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے شہداء کی تعداد 14 ہوگئی ہے، شہداء کی میتوں کے ہمراہ احتجاج کے بعد مختلف قبرستانوں میں تدفین کردی گئی۔ جمعے کے روز پشاور بم دھماکے پر احتجاج کے طور پر پاراچنار میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا اور آج تمام پرائیویٹ تعلیمی و کاروباری ادارے اور بازار بند کردئیے گئے۔ شہداء کی میتیں پشاور سے ایمبولینسوں کے ذریعے پاراچنار لائی گئیں اور میتوں کے ہمراہ احتجاج کیا گیا۔ جس کے بعد شہداء کی تدفین کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں شیعہ تکفیری دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، مولانا سید کلب جواد نقوی
پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 14 افراد دہشت گردی کے اس واقعے میں شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں. مختلف علاقوں سے جلوسوں کی شکل میں لوگ پاراچنار شہر پہنچے، اس موقع پر اپنے خطاب میں علامہ فدا مظاہری، علامہ عابد الحسینی، عنایت حسین طوری، حاجی عابد حسین، علامہ صفدر علی شاہ نقوی اور دیگر راہنماوں نے کہا کہ پشاور میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ بزدلانہ اقدام ہے اور پہلے سے تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے باوجود دہشت گردی کا واقعہ ہونا افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی چہرے سے نقاب ہٹا دی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا اعتراف
رہنماوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دھشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا جائے راہنماوں کا کہنا تھا کہ ایک طرف مہنگائی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں اور دوسری طرف دھشت گردوں کے رحم کرم پر عوام کو چھوڑا گیا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ حکومت فوری طور مستعفی ہوجائے ۔راہنماوں نے مسجد کی ناقص سکیورٹی پر افسوس کا اظہار کیا اور شہدا کے ورثا کو پچاس لاکھ زخمیوں کو بیس لاکھ معاوضہ دینے بہترین علاج معالجہ کرانے اور شہدا کو شہید پیکج دینے کا مطالبہ کیا۔







