یوکرائن کی بحرانی صورتحال کا اثر عالمی معیشتوں پر پڑے گا، شامی وزیر اقتصادیات
شیعیت نیوز: شام کے وزیر اقتصادیات اور خارجہ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ دمشق عالمی بحران کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے اور اس ملک کی حکومت یوکرائن کے اقتصادی بحران کو کم کرنے اوراقتصادی صورت حال کو منظم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق شام کے شام کے وزیر اقتصادیات الخلیل نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے بڑے پیمانے پر ہمیں نقصان پہنچایا ہے اور جنگ کے سالوں کے دوران دہشت گردوں نے ہمارے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں پیش آنے والی بحرانی صورتحال کا اثر عالمی معیشتوں پر پڑے گا اور اس کے براہ راست اثرات توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں دیکھنے کو ملیں گے۔
شامی وزیر اقتصادیات نے مزید کہاکہ یوکرائن کے بحران کے نتیجے میں بین الاقوامی میدان میں سیاسی کشیدگی کے علاوہ، ہم دنیا کے ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں مزید اضافے کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی تجارت کے شعبے میں ان مواد کی فہرست کا جائزہ لیا جائے گا جنہیں اس وقت برآمد کرنے کی اجازت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران دنیا میں کورونا ویکسین تیار کرنے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے، علی رضا بیگلری
دوسری جانب ترکی کے فوجیوں نے ایک بار پھر دہشت گردوں سے مقابلے کے بہانے شمالی شام پر حملہ کر دیا۔
سانا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے شام کے صوبے الحسکہ کے شہر تل تمر کے دیہی علاقوں پر توپوں کے گولے داغے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں جانی نقصانات کے علاوہ مالی نقصانات بھی ہوئے اور رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
ترکی نے دہشت گرد گروہوں کے عناصر کا مقابلہ کرنے کے بہانے شمالی شام پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔
ترکی یہ دعوی کرتا ہے کہ پی کے کے کے دہشت گرد عناصر کی شمالی عراق اور شام کے علاقوں اور جنوبی ترکی سے ملنے والے سرحدی علاقوں میں چھاونیاں ہیں اور یہیں سے یہ عناصر دہشت گردانہ حملوں کے لئے منصوبہ بناتے ہیں۔







