دنیائے عیسائیت کے روحانی پیشوا پاپ فرانسس بھی یمن میں سعودی انسانیت سوز مظالم کےخلاف بول پڑے
شیعیت نیوز: دنیائے عیسائیت کے روحانی پیشوا کا پہلا ٹی وی ٹاک شو مہاجرین کی بھرپورحمایت اور اسے قبول کرنے پر تاکید یمن کے بحران کے لئے بھی اپنے دکھ کا اظہار پوپ فرانسس اتوار کی رات اطالوی ٹیلی ویژن کے مشہور ٹاک شو میں پہلی بار مہمان تھے جنہوں نے ایک گھنٹے طویل انٹرویو میں جنگ، مہاجرین اور ماحولیات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، "ہر ملک کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ کتنے مہاجرین کو رکھ سکتے ہیں،” انہوں نے ان لوگوں کے لیے اقوام کے درمیان مزید یکجہتی پر زور دیا جو یورپ میں کہیں بہتر زندگی کی امید رکھ کر آرہے ہیں۔
ادھر دوسری جانب روحانی پیشوا نے دنیا میں جنگوں اور بدامنی کے بارے میں فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے یمن میں جاری انسانی بحران کی جانب توجہ دلائی اور اپنے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یمن جنگ روکنے کی اپیل کی ۔
یہ بھی پڑھیں: متنازعہ یکساں قومی نصاب کے خلاف شیعہ قومی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس طلب
واضح رہے کہ اس سے پہلے گذشتہ سال بھی پوپ نے یمن میں انسانی بحران کے بارے میں اپنے دکھ کااظہار کیا تھا اس سے پہلے گذشتہ سال جون میں بھی عیسائی دنیا کے روحانی پیشوا نے اتوار کی عبادت کے وقت کہا تھا کہ دنیا کے سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا علاقوں کے لیے دلی دعا کرتا ہوں۔ خاص طور پر یمن جہاں کی آبادی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے سہولیات فقدان کا شکار ہے۔
پوپ کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یمن کے لوگوں کے لیے دعا کرنے کی دعوت دیتا ہوں، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو انتہائی سنگین انسانی بحران کا شکار ہیں۔







