مکتبِ تسنن اور تشیع میں اس بات پر ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں ہے کہ حبِ علیؑ ایمان اور بغضِ علیؑ کفر اور نفاق ہے،علامہ امین شہیدی

14 فروری, 2022 11:55

شیعیت نیوز: امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے جامعة العروة الوثقی لاہور کے بارہویں یوم تاسیس کے موقع پر "نہج البلاغہ و منہج الولایة” کے عنوان پر خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے تمام مسالک کے علماء، اہل قلم اور اہل تحقیق کو ایک دوسرے کے منابع و مآخذ سے استفادہ کرنے اور مدارس کا دورہ کرنے کی تاکید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم جہالت کے دبیز پردوں کے پیچھے اتنا چھپ چکے ہیں کہ ایک دوسرے سے آشنائی کے لئے بھی ہمیں بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔ مختلف مسالک کے حامل افراد سے مسلسل ملاقاتوں کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ "نہج البلاغہ” مکتب اہل بیت علیہم السلام کی حدیث کی کتاب ہے، اس کی وجہ نہج البلاغہ کی شہرت ہے۔ جبکہ ہمارے علماء نے اس حوالہ سے ایک مثبت کام کیا ہے کہ جہاں کوئی علمی و فکری بحث ہوئی، وہاں عالمِ اسلام میں موجود تمام منابع و مآخذ سے کمالِ استفادہ کا مظاہرہ کیا۔ ہماری لائبریریاں ہوں یا مدارس، حوزہ ہائے علمیہ ہوں یا پھر علماء کی شخصی لائبریریاں، ان سب میں تمام مسالک کی کتب اور احادیث کے معتبر اور تاریخی مجموعے، کلام کے موضوعات پر لکھی گئی کتب موجود ہوتی ہیں۔اس کام سے ایک مثبت پیغام پہنچتا ہے کہ ہم ایک دوسرےکے علمی ذخائر سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ملت اور ایک امت بننے کی طرف قدم اٹھا سکتے ہیں۔

ایک امت بننے کی طرف قدم اٹھانے کے حوالہ سے ہماری سب سے بڑی مشکل ہمارے معاشرے کی جہالت ہے، جو تعصب کو جنم دیتی ہے۔ حقیقت سے چشم پوشی کرنے پر مجبور کرتی ہے اور نفاق کا بیج بو کر بغض کی فصل تیار کرتی ہے۔جس کے نتیجہ میں دو بھائی ایک دوسرے کو سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں مغربی استعمار کے مقابلہ میں اگر کوئی سب سے بڑا چیلنج ہے تو وہ مکتبِ توحید ہے۔ جو بات نہ سادہ لوح افراد سمجھتے ہیں اور نہ سماجی رابطہ کے ذرائع اس پر توجہ دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ آج کے دور میں جنگ دو قوتوں کے درمیان ہے؛ اسلام و کفر اور توحید و شرک۔ کفر و شرک کی سب سے بڑی کوشش یہی ہے کہ توحیدی نظریہ کی حامل قوتوں کو دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کمزور کر دیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یہ قوتیں کئی طریقوں پر عمل کرتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں جہالت کی فصل اگتی ہے۔ لہذا علماء، اہل قلم اور اہل تحقیق کی ذمہ داری ہے کہ وہ کتابیں چھانیں، ایک دوسرے کے عقائد سے معرفت حاصل کریں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پھر اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے اُن مشترکات پر اکٹھا ہوں، جو سب کے ہاں یکساں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی قونصلیٹ کراچی میں انقلاب اسلامی کی 43ویں سالگرہ کا انعقاد، شیعہ سنی علماء وسیاسی شخصیات کی شرکت

امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام تاریخِ اسلام کی وہ ہستی ہیں، جو تمام مسالک کے درمیان یکساں طور پر قابلِ قبول ہیں؛ یعنی مکتبِ تسنن اور تشیع میں اس بات پر ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں ہے کہ حبِ علیؑ ایمان اور بغضِ علیؑ کفر اور نفاق ہے۔ جب ہم اس نقطہ پر متحد ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر یہ غلط فہمی کیوں عام ہے کہ "نہج البلاغہ” کو حدیث کی کتاب قرار دیا جائے! اگر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ طالبعلم بھی مکتب اہل بیتؑ کے فقہی و کلامی منابع پر غور کرے تو فقہی احکام کے استنباط کے حوالہ سے نہج البلاغہ میں کہیں بھی ایسا کوئی جملہ یا قول نظر نہیں آتا، جبکہ نہج البلاغہ معروف ہے اور اس معروفیت کے پیشِ نظر آج ایک بہت بڑی سازش یہ بھی کی جا رہی ہے کہ نہج البلاغہ کے خطبات میں تبدیلیاں کرکے نئے ترجمہ کے ساتھ مارکیٹ میں عام کیا جا رہا ہے۔نہج البلاغہ کلامی کتاب ہے اور نہ ہی فقہی احادیث کا مآخذ و منبع؛ بلکہ یہ معرفت، کائنات و خدا شناسی کی کتاب ہے؛ اُس شخصیت کی نگاہ سے جو بعد از رسولؐ کائنات کا وارث ہے، جو علمِ شہرِ نبیؐ کا دروازہ اور نفسِ رسولؐ ہے۔

جس کی محبت کو اللہ کے حکم سے نبیؐ نے ایمان اور دوری کو نفاق قرار دیا؛ اُس شخصیت کی نگاہ سے جس کا ساتھ دینا حق ہے، کیونکہ وہ سراپا حق ہے، جو عرفاء، صوفیاء، متکلمین، سیاستدانوں اور بہادروں کا امام ہے۔ الغرض دنیا میں تکامل اور رشدِ انسانی کے اعتبار سے جتنی بھی شخصیات اپنی معراج تک پہنچی ہیں، وہ سب کی سب بعد از انبیاء علیہم السلام، علیؑ کے مقابلہ میں بہت چھوٹی دکھائی دیتی ہیں۔ نہج البلاغہ امام علی علیہ السلام کی بلند و بالا روح کی عکاس کتاب کا نام ہے۔ اس کے کلام کو سمجھنے کے لئے متکلم کی طرف دیکھنا ضروری ہے؛ متکلم جتنا بڑا ہوگا اس کے کلام کی گہرائی اور وسعت بھی اتنی زیادہ ہوگی۔ قرآن پڑھنے کے بعد ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے قرآن میں اللہ متجلی ہے، اسی طرح نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علی علیہ السلام نظر آتے ہیں۔لہذا ان کتب کو سمجھنے، جہالت کے دبیز پردوں کو ہٹانے اور ایک دوسرے کے منابع اور مآخذ سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مذہبی جنونیت کے بڑھتے ہوئے واقعات ریاست کے وجود کو کھوکھلا کر رہے ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

اگر ہم تاریخ کے بڑے بڑے بزرگوں کی نگاہ سے دیکھیں تو نہج البلاغہ کو "اخ القرآن” کہا گیا ہے۔ جس طرح قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے، اسی طرح نہج البلاغہ حکمت کی کتاب ہے۔ یہ کتاب ذہنِ انسانی کو کھولنے اور انسان و معاشرہ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ولایت کی طرف اٹھنے اور "منہج الولایة” پر چلنے والا پہلا قدم ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ انسان ولایت کے منہج کو نہج البلاغہ پڑھے بغیر اختیار کرے اور علیؑ کے کلام سے ناآشنا رہ کر علیؑ کے راستے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ حبِ خدا اور حبِ علیؑ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ ولایتِ خدا و سولؐ اور ولایتِ علیؑ میں تفاوت نہیں۔ تینوں ہستیوں میں پہلا خالق اور باقی دو اس کی مخلوق ہیں، ایک نبی ہے تو دوسرا ولی، لیکن تینوں میں ولایت کا عنوان مشترک ہے۔ اگر کسی کے دل میں علی علیہ السلام کی ولایت ہے تو گویا وہ اللہ کی ولایت میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ مسلک کا مسئلہ نہیں بلکہ توحید کا مسئلہ ہے، جسے قرآن نے بیان کیا ہے: "ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسولؐ اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکواة دیتے ہیں۔”(المائدہ:55)

اس آیت کی سب سے بارز اور اعلیٰ مصداق وہی ہستی ہے، جس کو مباہلہ کے میدان میں نفسِ رسولؐ بنا کر خود اللہ نے بیان کیا کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان مقامات و مراتب کا کوئی حامل ہے تو وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ لہذا عشقِ علیؑ، عشقِ رسولؐ ہے۔ یہ مذہب و مسلک کا مسئلہ نہیں بلکہ ضمیر کی پاکیزگی کا مسئلہ ہے۔ علی علیہ السلام وہ ہستی ہیں کہ جن کی مدح و تعریف کرتے ہوئے لسانِ رسولؐ کبھی نہیں تھکی؛ رسولؐ نے علیؑ کے فضائل وہاں وہاں بیان کیے، جہاں کسی کو توقع بھی نہیں تھی کہ رسولؐ ایسا کریں گے۔ اسی لئے انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، جنگ کا میدان ہو یا کوئی اور مقام، ان تمام جگہوں پر فضائل کا ایک ہی یکجا مجموعہ نظر آتا ہے اور وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ اقدس ہے۔ میں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ علیؑ کے فضائل بیان کرنے سے مراد کسی اور کی تنقیص یا توہین نہیں ہے۔ اگر ہم علیؑ اور اہل بیت علیہم السلام کے دیگر افراد کے فضائل کا آپس میں مقائسہ نہیں کرتے تو پھر آپ علیؑ کے فضائل اور صحابہ کے درمیان تمیز کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی مشکل ضرور ہے اور اسی مشکل کا نام جہالت ہے۔ اس جہالت کو تحقیق و مطالعہ کے ذریعے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

11:55 صبح مارچ 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔