فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ، 79 فلسطینی زخمی، بورین میں زیتون کی شجر کاری
شیعیت نیوز: مقبوضہ فلسطین کے غرب اردن کے مختلف علاقوں میں غاصب صیہونی فوجیوں نے فائرنگ کر کے 79 فلسطینی مظاہرین کو زخمی کردیا۔ دوسری طرف فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے درجنوں کارکنوں نے فلسطینی شہریوں کے ساتھ بورین میں زیتون کے درخت لگانے میں حصہ لیا۔
فلسطین الیوم کی رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی فوجیوں نے کل غرب اردن کے مختلف علاقوں خاص طور سے نابلس کے بیتا اور بیت دجن میں ہونے والے پر امن مظاہروں کو کچلنے کیلئے ربڑ کی گولیوں سے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا اور آنسو گیس کے شیل داغے جس کے نتیجے میں 79 فلسطینی مظاہرین زخمی ہو گئے۔
اسی طرح نابلس کے جبل صبیح علاقے میں صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا 18 سالہ نوجوان ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوا۔
مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے وہ علاقے ہیں جہاں صیہونی حکومت فلسطینیوں کو ترک وطن کرنے پر مجبور کرتی رہی ہے جبکہ فلسطینی عوام ہر ممکن شکل میں اپنی مزاحمت و استقامت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں : داعش کی تشکیل کیوں ہوئی، شام کے اعلی عہدیدار کا انکشاف
دوسری جانب کل جمعہ کو فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے درجنوں کارکنوں نے فلسطینی شہریوں کے ساتھ، نابلس (مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں) کے جنوب میں واقع قصبے بورین میں زیتون کے درخت لگانے میں حصہ لیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 300 شہریوں، غیر ملکی یکجہتی کے کارکنوں،’’پیس ناؤ‘‘ تحریک کے کارکنان اور کنیسٹ کےعرب اراکین نے درخت لگانے میں حصہ لیا۔
ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے یکجہتی بسوں کو بورین پہنچنے سے روکا لیکن انہوں نے شرکت پر اصرار کیا اور خراب موسم اور شدید بارش کے باوجود پیدل قصبے میں داخل ہوئے۔
رپورٹر نے نشاندہی کی کہ گیوات رونین چوکی پر قابض افواج اور آباد کاروں کو علاقے میں وسیع پیمانے پر تعینات کیا گیا تھا جو کہ یکجہتی کے کارکنوں کو گیوات رونین کی چوکی سے ملحقہ زمینوں پر کاشت کرنے کے لیے پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بورین گاؤں براخا، اروسی اور یتزہار کی بستیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد فوجی چوکیاں بھی ہیں۔ ان سے آباد کاروں کی دراندازی کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔







