جنوری میں دسیوں بار مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی کی بے حرمتی
شیعیت نیوز: فلسطینی وزارت اوقاف نے جنوری کے مہینے میں مسجد اقصیٰ، مسجد ابراہیمی اورتمام عبادت گاہوں پر قابض یہودی آباد کاروں کےحملوں کے واقعات کے بارے میں اپنی ماہانہ رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں مسجد اقصیٰ کی 22 مرتبہ بے حرمتی کی گئی جب کہ مسجد ابراہیمی میں اذان دینے پر50 بار پابندی عائد کی گئی ۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قابض حکام نے بیت لحم کے مغرب میں واقع قصبے ’’نحالین‘‘ میں زیر تعمیر مسجد کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح ایک انتظامی فیصلے کے تحت بیت المقدس میں مسجد تقویٰ کی تعمیرات روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔
ادھرطلوع فجر کے اوقات میں طولکرم گورنری میں واقع پرانی کفر عبوش مسجد پر دھاوا بولا اور اس کی تصویر کشی کی۔
یہ بھی پڑھیں : جبل صبیح کی یہودی اویتار کالونی میں دوبارہ آباد کاری کا منصوبہ
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی مقدسات یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں بے حرمتی سے محفوظ نہیں رہیں۔ یہودی آباد کاروں نے نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے عورتا میں العزیز، مفضل مزار اور قبرستانوں کی بے حرمتی کی۔
دوسری جانب کل بدھ کو قابض اسرائیلی حکام نے سلفیت کے شمال میں واقع مردا گاؤں میں شہریوں کو کام اور تعمیرات روکنے کے نوٹس بھیجے ہیں۔
مردا ولیج کونسل کے سربراہ مراد الخفش نے بتایا کہ قابض فورسز نے گاؤں پر دھاوا بولا اور گاؤں کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں مکانات اور سہولیات کے کام اور تعمیرات کو روکنے کے نوٹس بھیجے۔ قابض حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ تعمیرات’سیکٹر سی‘ میں ہو رہی ہیں۔
زیرتعمیر مکانات مقامی شہریوں جہاد خلیل، ضرغام ابداح اور زاھی منصور کی ملکیت ہیں۔ اس کے علاوہ قابض حکام نے شہری سامی محمد جمیل کی زیرتعمیر دوکان بھی بند کردی جب کہ مفید حماد کے مویشیوں کے باڑےکی تعمیر بھی رکوا دی۔







