الحسکہ جیل میں 50 ممالک کے دس ہزار داعش ارکان کی موجودگی

شیعیت نیوز: شام اور عراق کی جیلوں میں داعش دہشت گرد گروہ کے عناصر کی موجودگی نے بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے، الحسکہ جیل میں حالیہ واقعات کے دوران، امریکی فوجیوں نے داعش کے سینکڑوں جنگجوؤں کو نکال کر صوبہ دیر الزور میں تعینات کیا۔
عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعراجی نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’نیٹو کے ساتھ اور آج ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کے دوران، ہم نے داعش کے شہریوں کے خلاف ان کے ممالک میں مقدمہ چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔‘‘
العراجی نے کہا کہ ’’10,000 سے زیادہ دہشت گرد، 50 سے زیادہ ممالک کے شہری، اس وقت شام کے شمال مشرقی علاقے الحسکہ میں شامی ڈیموکریٹک فورسز کی جیلوں میں قید ہیں اور خطے اور دنیا کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں‘‘۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے ترک اسلحہ کی شرط کسی بھی قیمت پر قبول نہیں
الحل کیمپ میں داعش کی 70,000 سے زیادہ خواتین اور بچے بھی موجود ہیں۔ یہ کیمپ شمال مشرقی شام میں واقع ہے اور بہت سے ماہرین اسے ٹائم بم تصور کرتے ہیں۔
العراجی نے کل عراق میں نیٹو کے وفد کے کمانڈر مائیکل اینکر کی بھی میزبانی کی۔ انہوں نے میٹنگ کے دوران کہا کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ممالک اپنے داعش کے شہریوں کو حوالے کریں جو عراق اور شام میں قید ہیں۔ عالمی برادری کو بھی ان دہشت گردوں کو واپس بلانا چاہیے۔
عراقی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ شامی جمہوری فورسز کے پاس ان خطرناک دہشت گردوں سے نمٹنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور عالمی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ داعش کے عناصر شام اور عراق میں موجود رہیں۔ کیونکہ داعش کو واپس لانے کا منظرنامہ موجود ہے۔
ڈیموکریٹک فورسز کرد ملیشیا ہیں جنہیں امریکی دہشت گرد افواج کی حمایت حاصل ہے۔ حال ہی میں امریکیوں نے کرد عناصر کی مدد سے داعش کے عناصر کو الحسکہ جیل سے فرار کرانے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا۔ اس آپریشن میں داعش کے 750 سے زائد مفرور عناصر اور لیڈران کو دی گئی ۔