بغداد کے شمال میں حشد الشعبی کے جوانوں اور داعشی دہشتگردوں میں شدید جھڑپ
شیعیت نیوز: عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ بغداد کے شمال میں واقع طارمیہ کے علاقے میں داعشی دہشتگردوں اور عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے جوانوں میں شدید جھڑپ ہوئی ہے۔
عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کی شکست کے اعلان کے باوجود اس گروہ کی باقیات مختلف علاقوں میں روپوش ہیں جو دہشت گردانہ حملے کر کے دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق عراقی فضائیہ کے طیاروں نے طارمیہ کے علاقے میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
صابرین نیوز کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ اور کم از کم چھے دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
داعش دہشت گرد گروہ نے امریکہ اور اس کے بعض عرب اور غیر عرب اتحادیوں کی حمایت سے دو ہزار چودہ میں عراق کے مختلف علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے ایران کی فوجی مشاورت سے سترہ نومبر دو ہزار سترہ کو داعشی دہشت گردوں کے آخرے اڈے راوہ کو بھی آزاد کرا کر عراق میں داعشی دہشتگردوں کی شکست کا اعلان کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : شیعہ کوآرڈینیشن کمیٹی ملک کی حقیقی سیاسی قوت ہے، تحریک عصائب اہل حق
دوسری جانب صابرین نیوز ٹیلیگرام چینل نے اطلاع دی کہ عراق کے صوبہ دیوانیہ میں امریکی لاجسٹک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
عراقی پارلیمنٹ کے ملک سے غیر ملکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے اور بغداد کی جانب سے ایسا کرنے میں تاخیر کے بعد، امریکی اتحادی افواج کے رسد کے قافلوں کو ہفتے میں کئی بار، کبھی کبھی دن میں کئی بار سڑک کے کنارے نصب بموں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
عراقی گروہوں کا اصرار ہے کہ عراقی حکومت کو عراقی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کے بعد عراق سے غیر ملکی فوجیوں کو نکالنا چاہیے۔
صابرین نیوز نے اطلاع دی ہے کہ دوسرے امریکی لاجسٹک قافلے کو صوبہ دیوانیہ کے علاقے النجمی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔







