اسرائیلی زندانوں میں فلسطینی قیدی ناصر ابو حمید کومےمیں، حالت نازک
شیعیت نیوز: اسرائیلی زندانوں میں قید پھیپھڑوں کی بیماری سے دوچار 49 سالہ فلسطینی ناصر ابو حمید مسلسل 12 دن سے کومے میں ہیں اور ان کی زندگی خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو حمید کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ امور اسیران کے ترجمان حسن عبد ربہ نے کہا کہ قیدی ناصر ابو حمید کی حالت اسرائیلی جیل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور بیمار قیدی کے علاج میں لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ناصر ابو حمید قوت مدافعت کی کمی کے باعث تشویشناک حالت میں ہیں اور انہیں اس وقت برزلائے اسرائیلی اسپتال میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے جہاں انہیں سانس کی دشواری کا بھی سامنا ہے۔
خیال رہے کہ ناصر ابو حمید کو جنوری 2021ء میں سینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد ان کا عارضی معائنہ کیا گیا، انہیں سانس میں بھی تکلیف تھی۔ ڈاکٹروں اس حوالے سے کسی قسم کی موثر جانچ نہیں کی اور ان کا فوری طبی معائنہ اور علاج نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹوئیٹر نے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کا آفیشل اکاؤنٹ کیوں بند کیا؟
دوسری جانب اسرائیل کی ایک جیل میں قید فلسطینی محمد العارضہ نے بہ طور احتجاج شروع کی گئی بھوک ہڑتال چار روز کے بعد معطل کردی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال معطل کرکے قابض اسرائیلی انتظامیہ کو ناروا پابندیوں کے نفاذ کو ختم کرنے کے لیے مہلت دینا ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے وکیل کریم عجوہ نے کہا کہ اسیر العارضہ نے چار روز سے جاری بھوک ہڑتال معطل کردی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسیر العارضہ نے اسرائیلی حکام کو اپنے مطالبات کی ایک فہرست دی ہے اور انہیں مطالبات پوری کرنے کے لیے مزید مہلت دی گئی ہے۔ مطالبات کی فہرست میں ان پر عاید کی گئی پابندیوں کو ختم کرنے اور ان کے حالات کو بہتر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسیر العارضہ پر اپنے رشتہ داروں سے ملاقات، جیل کی اسپتال سے فائدہ اٹھانے، سردیوں میں بجلی کے ہیٹر کے استعمال پر پابندی کے ساتھ ان پر بھاری جرمانے عاید کیے گئے ہیں۔ وہ شدید سردی میں غیر انسانی ماحول میں کال کوٹھڑیوں میں قید ہیں۔







