اقوام متحدہ میں افغان مشن کے نئے ناظم الامور نصیر احمد فائق مقرر

شیعیت نیوز: اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل افغان مشن نے نصیر احمد فائق کو اقوام متحدہ میں افغان مشن کا ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔ نصیر احمد فائق یو این میں افغان مستقل نمائندے غلام محمد اسحاق زئی کی جگہ سنبھالیں گے۔
اقوام متحدہ میں افغان مشن نے ایک بیان میں کہاہے کہ نصیراحمد فائق اقوام متحدہ میں افغانستان مستقل مشن کی قیادت کرینگے۔
افغانستان مشن اقوام متحدہ کےحکام اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ غلام محمد اسحاق زئی نے بدھ کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : ولی عہد بن سلمان نے سعودی عرب کی باگ ڈور سنبھال لی
دوسری جانب افغان طالبان نے اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لیے ایک بار پھر درخواست دے دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سابق حکومت کے سفیر نے اقوام متحدہ میں نشست چھوڑ دی ہے جس کے بعد طالبان نے ایک بارپھراقوام متحدہ سے اپنا سفیربھیجنے کی اپیل کی ہے۔
طالبان رہنما اور اقوام متحدہ کی نشست کے لئے طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے کہا کہ یہ نشست اب افغانستان کی نئی حکومت کو ملنی چاہیے۔یہ اقوام متحدہ کے تشخص کا معاملہ ہے۔ افغانستان میں موجودہ حکومت خود مختار ہے۔
طالبان نے 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی جسے اقوام متحدہ نے رد کردیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے افغان نمائندے کوسفیرتسلیم نہ کئے جانے پرطالبان نے اقوام متحدہ کوتنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ طالبان نے اگست میں افغانستان میں اقتدارسنبھالا ہے تاہم انہیں اب تک پاکستان سمیت کسی حکومت نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کسی معاہدے تک پہنچنے کی رفتار دوسرے فریق کی مرضی پر منحصر ہے، ڈاکٹر علی باقری
دریں اثنا امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا ہے کہ اتحادیوں اور اقوام متحدہ سے مل کر افغانستان کی معیشت کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ براہ راست امداد کے لیے طالبان کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے، انسانی ہمدردی اور امداد کے لیے پاکستانی حکومت بھی افغانستان کے لیے پریشان ہے۔ صدر جوبائیڈن کے میشر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری صورتحال پر پاکستان امریکہ سے تعاون کا خواہش مند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلقات پر واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس بنیاد پر پاکستان کا افغانستان میں کیسا کردار رہا اس حوالے سے بھی کچھ کہنا مشکل ہے۔