حماس کے یوم تاسیس پر فلسطینی اتھارٹی نے مساجد سیل کر دیں

شیعیت نیوز: جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی نے الخلیل گورنری میں مساجد سیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی 34 ویں یوم تاسیس کے موقعے پر کیا گیا جب حماس کی قیادت کی طرف سے جمعہ کے روز ایک مارچ کی کال دی گئی ہے۔
الخلیل اوقاف کے ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کے نمازیوں کے لیے چار مساجد سیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے مسجد ابراہیمی میں فلسطینی نمازیوں کی تعداد میں اضافے کی بات کی گئی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت حکام نے الخلیل کی مسجد طارق بن زیاد، مسجد نمرہ، مسجد علی البکاۃ، اور مسجد وصایا رسول کوحماس کے 34 ویں یوم تاسیس کے موقعے پر بند کیا گیا۔
دوسری طرف حماس کے انتخابات کے لیے قائم کردہ ’’القدس ہماری منزل ہے‘‘ بلاک کی امیدوار، لمیٰ خاطر نے کہا مسجد وصایا رسول کے ساتھ ساتھ تین دیگر مساجد کو بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ انہیں متبادل کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : نابلس میں حومش بستی کے قریب فائرنگ سے یہودی آباد کار ہلاک، متعدد زخمی
ان کا کہناہے کہ مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کی تعداد بڑھانا محض ایک بہانہ ہے۔ دراصل یہ مساجد حماس کے تاسیسی مارچ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب صیہونی عسکریت پسندوں ہاتھوں فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کے بعد درجنوں صیہونی آباد کار آج صبح مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔
جمعرات کی صبح درجنوں صیہونی آباد کار مسجد الاقصی کے صحنوں میں داخل ہوئے، اس کے ساتھ ہی مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پر نظربندی کے ساتھ ساتھ متعدد آباد کار غیر قانونی طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔
مقبوضہ فلسطینی کلب نے اطلاع دی ہے کہ قابض صیہونی افواج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں اور مقبوضہ یروشلم میں داخل ہو کر قابض صیہونی افواج اور آباد کاروں کے خلاف عوامی مزاحمت میں حصہ لینے کے بہانے متعدد شہریوں کو حراست میں لیا اور تفتیشی مراکز میں منتقل کیا۔