اسرائیل کےساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری، اسرائیلی دشمن کی مفت خدمت ہے، داؤد شہاب

شیعیت نیوز: فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی فی فلسطین کے مرکزی رہنما داؤد شہاب نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قابض صیہونی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
انہوں نے تاکید کی ہے کہ اس غاصب حکومت کے شر سے بچنے کے لئے بھرپور مزاحمت و مقابلہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس قابض حکومت کے ساتھ مقابلے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو دنیا بھی ہماری فریاد ہرگز نہیں سنے گی۔
عرب ای مجلے فلسطین الیوم کے مطابق انہوں نے کہا کہ مزاحمتی محاذ مقبوضہ بیت المقدس میں وقوع پذیر ہونے والے حوادث کے حوالے سے غزہ کی لاتعلقی کے خلاف اپنے مؤقف پر زور دیتا ہے جبکہ ہمارے پاس بھرپور مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی مزاحمتی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس، امریکی انخلاء اور اسرائیلی دشمنی پر تاکید
داؤد شہاب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غاصب صیہونی عدالتوں کے ساتھ امید وابستہ کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ اس حکومت کی بنیادیں جنگ، قتل و غارت اور تشدد پر رکھی گئی ہیں جو کسی بھی قسم کے قانون کی کوئی اعتناء نہیں کرتی۔
جہاد اسلامی کے مرکزی رہنما نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر اور فلسطین کی مقبوضہ اراضی کا الحاق؛ ناجائز قبضے پر مبنی صیہونی سیاست کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو قومی آزادی کے نکتۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی استواری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی یہ حرکت غاصب اسرائیلی دشمن کے لئے مفت خدمت ہے جبکہ بعض (مسلم) ممالک تو ’’دشمن‘‘ کے ساتھ مشترکہ انٹیلیجنس تعاون کے معاہدوں پر دستخط کرنے میں بھی مصروف ہیں۔