شام، امریکی اتحادی کرد ملیشیا نے 700 داعشی دہشت گردوںکو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا

شیعیت نیوز: شام کے شمالی علاقوں پر قابض امریکی اتحادی کرد مليشيا نے 700 داعشی دہشت گردوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مقامی میڈیا نے کرد ڈیموکریٹک فورسز کے قریبی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کرد ملیشیا نے رقہ، حسکہ اور دیرالزور سے تعلق رکھنے والے 700 داعشی دہشت گردوں کے ناموں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں کے قبائلی سرداروں کی ثالثی پر انہیں آزاد کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد شامی قبائلی سرداروں کے دستخطوں کی حامل اس فہرست میں وہ داعشی شامل ہیں جنہیں سال 2014ء تا 2021ء کے دوران کرد ملیشیا کی جانب سے گرفتار کر کے الرقہ، غویران، الطبقہ، الحسکہ، جرکین، علایا، المالکیہ، الشدادی، العمر آئل فیلڈز، نافکر اور الکسرہ کی جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے 27 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا
اس حوالے سے عرب ای مجلے العربی الجدید نے دعویٰ کیا ہے کہ عنقریب آزاد کئے جانے والے داعشی دہشت گردوں پر غیر فوجی شہریوں کے خلاف کوئی سنگین جرم ثابت نہیں ہوا تاہم عام شہریوں کے خلاف جرم کا مرتکب ہونے والے شامی داعشیوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا جبکہ غیر ملکی دہشت گردوں کو ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کرد ملیشیا کے جیلوں میں قید داعشی دہشت گردوں کی حتمی تعداد تاحال معلوم نہیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ کرد ڈیموکریٹک فورسز کی جیلوں میں اس وقت 12 ہزار سے زائد داعشی دہشت گرد قید ہیں جن میں سے 3 ہزار کا تعلق دنیا کے 52 ممالک کے ساتھ ہے۔
یاد رہے کہ 16 نومبر کے روز کرد خبررساں ایجنسی نورث نیوز نے اعلان کیا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلی سطحی وفد نے کرد ڈیموکریٹک فورس اور اس کے کمانڈر مظلوم عبدی کے ساتھ ساتھ کرد ڈیموکریٹک فورسز کے سربراہ چیف ایگزیکٹو کونسل الہام احمد اور شمال مشرقی شام کی کرد علیحدگی پسند تنظیم ’’خودمختاری‘‘ کے 2 مرکزی رہنماؤں کے ساتھ بھی الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جبکہ اس وفد میں مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی ڈپٹی وزیر خارجہ سمیت متعدد امریکی سفارت کار و اہم فوجی افسر بھی شامل تھے۔