اسرائیل کا بیت المقدس میں 6 ہزار سیٹلمنٹ یونٹس تعمیر کرنے کا اعلان
شیعیت نیوز: اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس کے اطراف میں نئی غیرقانونی یہودی بستیوں کے لئے 6 ہزار سیٹلمنٹ یونٹس تعمیرکرنے کی منظوری دیدی ہے۔
القدس کے امور کے محقق فخری ابو دیاب نے بتایا کہ کہ آباد کاری کے منصوبے، جس کا قابض حکومت جلد اعلان کرنے والی ہےمیں 6000 سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر اور مقدس شہر میں ایک نئی بستی کا قیام شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر القدس کے شمال میں واقع عطاروت کے علاقے میں شہر کے جنوب میں گیوات ہماتوس بستی کے قریب اور معلے ادومیم بستی کے قریب E1سیکٹر میں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوجی عدالت کا ’انصاف‘ فلسطینی بچے کو قید، جرمانہ کی سزا
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض حکومت اپنے اعلان کے بعد آباد کاری کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھاری بجٹ مختص کرے گی تاکہ کام شروع کرنے کے لیے قابض حکام کی ’’تنظیم اور تعمیراتی کمیٹیوں‘‘ کو کام سونپا جا سکے۔
ابودیاب نے کہا کہ اگر قابض حکومت کی طرف سے منظوری دی جائے تو ’’عطاروت‘‘ کے علاقے کے قریب ایک نئی بستی تعمیر کی جائے گی۔
ادھرفلسطین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل کے غیرقانونی اقدام پرامریکہ سمیت دیگرعالمی طاقتوں سے فوری مداخلت اورمزید غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیررکوانے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : حکمرانوں کی نااہلی اور امریکہ کا خوف پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ ہے، علامہ سبطین سبزواری
فلسطینی مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی پرمشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا۔ دنیا کے بہت سے ممالک فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی یہودی بستیوں کوغیرقانونی تصورکرتے ہیں۔
ایک طرف فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے فلسطینیوں کی پشت میں خنجر گھونپ رہے ہیں۔







