عراق کی رضاکار فورس حشد الشعبی کا داعش کے خفیہ اڈے پر راکٹ حملے
شیعیت نیوز: عراق کی رضاکار فورس حشد الشعبی نے شمالی بغداد کے الطارمیہ علاقے میں داعش کے خفیہ اڈے پر راکٹ حملے کئے ہیں۔ دوسری طرف ترکی نے شمالی عراق کے متعدد علاقوں پر شدید بمباری کی۔
حشد الشعبی نے اتوار کو ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ الحشدالشعبی کی بارہویں بریگیڈ نے بغداد کے شمال میں واقع الطارمیہ ضلع میں داعش دہشت گرد گروہ کے خفیہ اڈے کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا اوراس علاقے میں ان کی مداخلت کی کوششیں ناکام بنا دیں۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی ، الطارمیہ میں داعش کی باقیات کے خفیہ اڈوں کونشانہ بنانے کی کوششیں جاری رکھے گی اور دہشتگرد عناصر کو اس علاقے میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔
حشد الشعبی کے جوانوں نے سنیچر کو بھی سامراء کے جنوب میں یثرب کے علاقے میں داعش کے حملے کو پسپا کردیا تھا۔
حشد الشعبی کے انفارمیشن سینٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کی باقیات پرمشتمل ایک گروہ یثرب کے علاقے میں حملہ کرنے کی کوشش کررہا تھا جسے عوامی رضا کار فورس نے ناکام اوردہشت گردوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے مآرب سیکٹر پر یمنی فوج و زرخرید جنگجوؤں کے درمیان شدید جنگ
دوسری جانب ترکی نے ایک بار پھر شمالی عراق کےمتعدد علاقوں پر شدید بمباری کی۔
شفق نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق اوراس ملک کے کرد علاقوں میں متعدد ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ ترک فوج نے دوہوک کے شمال میں عمادیہ کے علاقے میں واقع گاؤں حور کے اطراف میں بمباری کی۔
عراقی مقامی ذرائع نے بتایا کہ فضا سے زمین پر مار کرنے والے 14 میزائل کانی ماسی کے علاقے حور کے قریب گرے جس کے نتیجہ مین اردگرد کے کھیتوں اور جنگلات کو کافی نقصان پہنچا،درایں اثنا ترک وزارت دفاع نے بھی شمالی عراق میں پی کے کے کے ٹھکانوں پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔
واضح رہے کہ ترک فوج نے شمالی عراق میں مختلف ناموں سے اتنے آپریشن اور حملے کیے ہیں کہ ان آپریشنز کے نام یاد رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، حال ہی میں عراقی کردستان کے علاقے دوہوک کے قریب امیدی، متینہ اور دیگر کئی علاقوں میں حملے کیے گئے ہیں جنہیں ترک وزارت دفاع نے لائٹننگ کلاؤ کا نام دیا ہے۔
یادرہے کہ پی کے کے فورسز کے خلاف ہونے والےحالیہ ترکی کے حملوں میں 6 ترک فوجی بھی مارے گئے تھے۔







