عمران خان حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا
شیعیت نیوز: عمران خان حکومت اور ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کی قاتل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سفاک دہشت گردوں کے درمیان مفاہمت ہونے کا انکشاف ہواہے ۔پاکستانی حکام کی ملک میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کی غرض سے ایک وسیع تر امن معاہدہ کرنے کیلئے کالعدم تحریک طالبان کیساتھ عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق یہ بات اس پیشرفت سے واقف مختلف ذرائع نے ڈان کو بتائی۔
ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کے جنوب مغربی صوبے خوست میں تقریباً دو ہفتوں سے دونوں فریقین کے درمیان براہ راست آمنے سامنے ہونیوالی بات چیت جاری تھی۔ بات چیت کا نتیجہ ملک بھر میں جنگ بندی کا اعلان کرنے کیلئے ایک عارضی مفاہمت کی صورت میں نکلا جو اعتماد سازی کیلئے ٹی ٹی پی کے کچھ معمولی جنگجوؤں کی رہائی سے مشروط ہے۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کتنے عسکریت پسندوں کو رہا کر دیا جائے گا البتہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد 2 درجن سے زیادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاشیں لیکر بیٹھنے والوں کو بلیک میلرکہنےوالے وزیر اعظم عمران خان لاشیں گرانے والوں سے بلیک میل ہوگئے، علامہ سبطین سبزواری
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ معمولی جنگجو ہیں سینیئر یا درمیانی درجے کے کمانڈرز نہیں ہیں، ہم زمینی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور محتاط ہیں۔ ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر مزید کہا کہ جب زیر حراست افراد رہا ہو جائیں گے تو جنگ بندی عمل میں آئے گی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا عارضی طور پر کی جانیوالی ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع اس بات پر منحصر ہے کہ مذاکرات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کیساتھ مذاکرات کس نے کیے۔ ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں فریقین کو آمنے سامنے بات چیت کیلئے ایک چھت تلے لے کر آئے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات براہِ راست سینیئر افسران اور ٹی ٹی پی کی سینیئر قیادت کے درمیان ہوئے، جس میں ٹی ٹی پی کے تمام گروہ شامل تھے، اس ضمن میں بہت سی تجاویز سامنے رکھی گئیں اور دونوں فریقین قابل عمل حل نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی ٹی پی قیادت سے مذاکرات میں فی الوقت کسی قبائلی ثالث سے رابطہ نہیں کیا گیا، انہیں مناسب وقت پر شامل کیا جائے۔ یاد رہے کہ ایک ترک نیوز چینل کو گزشتہ ماہ انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور معافی کے بدلے میں صلح کر کے عام شہریوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ تاہم ٹی ٹی پی نے عمران خان کی معافی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ان کی جدوجہد پاکستان میں شریعت کے نفاذ کیلئے ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام ملک میں حملوں میں اضافے کا حوالے دیتے ہوئے افغان طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کے اڈے بند کر دیں۔ افغانستان کا اقتدار سنبھالنے سے کچھ ہی عرصہ قبل تحریک طالبان نے ٹی ٹی پی کیساتھ بات چیت کرکے اسے پاکستان کیخلاف دشمنی بند کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے ایک تین رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 24اکتوبر کو دریائے عمان میں ایرانی اور امریکی فورسز کے درمیان کیا ہواتھا؟؟؟
اس وقت باخبر ذرائع نے کہا تھا کہ افغان طالبان کی قیادت قبائلی وابستگیوں اور افغانستان میں غیر ملکی قبضے کیخلاف ان کی مشترکہ لڑائی اور قربانیوں کے باعث طاقت کے استعمال سے گریزاں تھی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی جانب توجہ مبذول کی گئی جو مذاکرات کے قابل سمجھے جا رہے تھے، جبکہ افغان طالبان سینئر پاکستانی ثالثوں کیساتھ براہ راست، آمنے سامنے مذاکرات کیلئے ہچکچاہٹ کی شکار ٹی ٹی پی قیادت پر کام کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ حکومتی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ جہاں ٹی ٹی پی کے کچھ معمولی جنگجو اور دیگر افراد لڑائی اور جلا وطنی میں رہ کر تھک چکے ہیں اور معافی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں وہیں کچھ عسکری رہنما بشمول ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نورلی اور جماعت الاحرار کے رہنما عمر خالد خراسانی ’شدید مشکل‘ ثابت ہوئے اور بات چیت کی مزاحمت کرتے رہے، تاہم اب سب مشاورت میں ہیں۔ ٹی ٹی پی نے ابھی تک بات چیت یا دونوں فریقوں کے درمیان طے پانیوالی عارضی مفاہمت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔







