دنیا میں صدی کے بدترین غذائی بحران کا خدشہ ہے، سیو دی چلڈرن کا انتباہ
شیعیت نیوز: بچوں کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ غربت، جنگوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور کورونا وائرس کے نتیجے میں صدی کےسنگین ترین غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
سیو دی چلڈرن نامی تنظیم کی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے ایک تہائی بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ہر پندرہ سیکنڈ میں ایک بچہ غذائی قلت کی وجہ سے لقمۂ اجل بن رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے چار کروڑ لوگ، روزانہ کی غذائی اشیا تک رسائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور افریقہ کے سولہ، وسطی امریکہ کے چار اور ایشیا کے تین ملکوں میں یہ صورتحال تیزی سے خرابی کی طرف جارہی ہے۔
سیو دی چلڈرن نے سن دوہزار انیس کے دوران غذائی قلت کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خطے میں جعلی صیہونی حکومت کے ڈراؤنے خواب
واضح رہے کہ دنیا کے ایک سو ترانوے ملکوں کے سربراہوں نے ستمبر دوہزار پندرہ میں، ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کا اہم ترین مقصد سن دوہزار تیس تک دنیا میں بھوک کا خاتمہ، فوڈ سیکورٹی اور پائیدار زراعت کو یقینی بنانا تھا لیکن یہ سجھوتہ ابھی تک اپنے اہداف سے کوسوں دور ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا بحران اگلے سال بھی جاری رہ سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ غریب ممالک کو کورونا ویکسین نہیں مل رہی، افریقہ میں صرف 5 فیصد سے بھی کم آبادی کی کورونا ویکسینیشن ہو سکی ہے جبکہ دیگر ممالک میں یہ شرح 40 فیصد تک ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسی نیشن کے معاملے میں ہم ٹریک پر نہیں ہیں، کورونا ویکسی نیشن میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کورونا بوسٹر ویکسین کے لیے ’’ مکس اینڈ میچ‘‘”حکمت عملی کی اجازت دے دی ہے۔
بوسٹر ڈوز کے لیے اہل افراد بنیادی ویکسی نیشن کے بعد فائزر، موڈرنا اور جانسن اینڈ جانسن میں سے کسی کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں۔
ماہرین بچوں کو بھی ویکسین لگانے کو تیار ہیں اور وائٹ ہاؤس کے مطابق بچوں میں ویکسی نیشن کا آغاز اگلے ماہ سے کر دیا جائے گا۔






