مودی حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے، ہیومن رائٹس واچ
شیعیت نیوز: انسانی حقوق کی تنظیم ’’ ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مودی حکومت نے ایسی پالیسیاں اور قوانین اختیار کیے ہیں جو مکمل طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی تصور کیے گئے ہیں۔ اس قسم کی منافقانہ اور دوگآنہ سیاست نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حکومت کی ان منافقانہ پالیسیوں نے آزاد اداروں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس کے تحت پولیس نے ہندو قوم پرست گروپوں کو مسلمانوں بالخصوص اقلیتوں کو دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے کے لئے بااختیار بنا دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم (ہیومن رائٹس واچ) نے22 ستمبر کو امریکی کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں کہا ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں سے منظم امتیازی سلوک کررہی ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزير اعظم مودی آج وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جو بایڈن سے ملاقات اور گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : او آئی سی کی مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق حل کرنے پر تاکید
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 3 ہزار کلوگرام ہیروئن اسمگلنگ میں ملوث نکلے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے انتہائی قریبی دوست کے زیر انتظام چلنے والی گجرات کی بندرگاہ مندرا پورٹ سے 3 ہزار کلوگرام کی ہیروئن برآمد ہوئی ہے، جس کی مالیت 3 بلین ڈالر ہے، ہیروئن افغانستان کے شہر قندھار سے اسمگلنگ کے بعد بھارتی پورٹ پر 2 کینٹرز میں چھپائی گئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گوتم عدانی نریندر مودی کے دوست ہیں اور بھارت میں ایک چوتھائی کارگو کی سپلائی بھی ان کی زیر نگرانی ہوتی ہے اس کے علاوہ مہاراشٹرا، گوا، کیرالا، آندھرا پردیش، تامل ناڈو اور اوڈیشا کی پورٹ کا انتظام بھی گوتم عدانی سنبھالتے ہیں جب کہ جس پورٹ سے ہیروئن برآمد ہوئی اس میں نریندر مودی کے 25 فیصد شئیرز ہیں۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی پر ملک میں ہیروئن پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ ملک کا مستقبل بیچ رہے ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حکومت کو اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہو جب کہ مخالف جماعت کانگریس نے سپریم کورٹ سے ہیروئن ملنے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ جس پر نریندر مودی کو جواب دینا ہوگا۔







