امریکہ سمجھ گیا ہے کہ متحدہ مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ میں فتح ناممکن ہے، پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس رپورٹ
شیعیت نیوز : ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے ایک اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی رجیم سمجھ چکے ہیں کہ لبنان اور متحدہ مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنا ان کے لیے ناممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لبنان کی 18 ماہ کی مسلسل مزاحمت — جس میں ایران کی جانب سے میدانی اور عملی حمایت شامل رہی — نے امریکی-صہیونی اتحاد کو اپنے تمام حساب کتاب دوبارہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاسداران انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ متحدہ مزاحمتی محاذ (جس میں لبنان، فلسطین، عراق، یمن اور شام کے مزاحمتی گروہ شامل ہیں) کے خلاف کوئی بھی بڑی جنگ اب امریکہ اور اسرائیل کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے باجود اسرائیل کی خلاف ورزیاں جاری
ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ "لبنان کی 18 ماہ کی مزاحمت، جسے ایران کی میدانی حمایت حاصل رہی، نے صیہونی اور امریکی محاذ کو اپنے فوجی اور سیاسی حساب کتاب پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔”
"امریکہ اور صیہونی رجیم کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اب یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ متحدہ مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔”
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب علاقائی مزاحمتی قوتوں نے صیہونی جارحیت کے خلاف اپنی استقامت اور حکمت عملی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ ایران نے ہمیشہ کی طرح مزاحمتی محاذ کی حمایت کو اپنے اصولوں کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حمایت جاری رہے گی جب تک فلسطین اور لبنان سمیت پورے خطے سے صیہونی قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ لبنان میں حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی مضبوط کارروائیوں نے صیہونی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل اب جنگ کو طول دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ ایرانی پاسداران کی یہ انٹیلی جنس رپورٹ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ محورِ مقاومت نہ صرف زندہ ہے بلکہ دن بہ دن مزید مضبوط اور منظم ہوتا جا رہا ہے۔
ایران نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ مزاحمت ہی واحد راستہ ہے اور یہ مزاحمت بالآخر فتح یاب ہوگی۔







