غزہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے استعفے کا مطالبہ
شیعیت نیوز: غزہ میں ہوئے ایک سروے میں تقریبا 80 فیصد فلسطینی، فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ اور صدر محمود عباس کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔
النشرہ نیوز کے مطابق، 15 سے 18 ستمبر کے درمیان غزہ پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کرائے گئے سروے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان علاقوں کے تقریبا 78 فی صدی فلسطینی صدر محمود عباس کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔ اس سروے میں 1270 لوگ شامل تھے۔
اس سروے کے نتیجے کے مطابق، 63 فی صدی فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ سیاسی و سماجی کارکن نزار بنات کو، فلسطینی انتظامیہ کے اعلی سیاسی و سیکیورٹی عہدیداروں کے حکم سے جان سے مارا گیا، جبکہ صرف 22 فی صدی لوگوں کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
فلسطینی سیاسی و سماجی کارکن نزار بنات، صوبے الخلیل میں تقریبا تین مہینے پہلے فلسطینی انتظامیہ کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں بری طرح زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔
سروے میں شامل 63 فیصد لوگوں نے نزار بنات کے قتل کے بعد ہوئے مظاہروں کی حمایت کی اور 74 فی صدی لوگوں کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو گرفتار کرنا آزادی اور شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اس سروے میں شامل 45 فی صدی لوگوں نے حماس کو امور کے سنبھالنے میں بہترین متبادل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطینی اسیران ہمارے ہیروز ہیں، ان کا دفاع جاری رکھیں گے، خالد مشعل
دوسری جانب مقبوضہ فلسطین میں سڑک حادثہ میں صیہونی پولیس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔
مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے نھاریا میں دو صیہونی پولیس اہلکار ایک کار سے کچل گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں دو صیہونی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی خبر تھی بعد میں ایک صیہونی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی۔
کچلنے والی کار جائے وقوعہ سے فرار ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق، کار اور اس کے ڈرائیور کا پتہ لگانے کی کوشش جاری تھی۔
دریں اثناء مقبوضہ فلسطین میں بنی دیوار حائل یا نسل پرستانہ صیہونی باڑ پر ایک فلسطینی فنکار نے شہید راہ قدس، ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی تصویر بنا کر صیہونی دشمن کو ایک اہم پیغام دیا۔







