صیہونی حکام نے فلسطینی خاندان سے زبردستی مکان مسمار کرادیا

09 ستمبر, 2021 11:11

شیعیت نیوز: صیہونی ریاست کی القدس میں نام نہاد بلدیہ کی طرف سے سلوان میں بستان کالونی میں واقع ایک فلسطینی خاندان کا مکان زبردستی مسمار کرادیا۔

مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق قابض بلدیہ نے پولیس کی مدد سے دویک خاندان کونوٹس جاری کیا کہ وہ اپنا مکان خود مسمار کریں ورنہ بلدیہ ان کا مکان خود مسمار کرے گی اور اس کے بدلے میں دویک خاندان سے جرمانہ کے طور پربھاری رقم وصول کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دویک خاندان کا مکان 80 مربع میٹر پرتعمیر کیا گیا تھا جس میں 7 بچوں سمیت 9 افراد رہائش پذیر تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی عمر دو سال بتائی جاتی ہے۔ اسرائیلی ریاستی جبر کے باعث اپنے ہاتھوں اپنا مکان مسمار کرنے کے بعد دویک خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور ہے۔

اسرائیلی بلدیہ کی طرف سے دویک خاندان کو 2020ء کو مکان مسمار کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ مکان سنہ 2017ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے میں داخل ہو گئی

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے عقوبت خانوں میں ڈالےگئے نہتے فلسطینیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ چھ فلسطینی اسیران کا بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی جیل سے سرنگ کے ذریعے فرار کے بعد قابض ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ غصہ ٹھنڈہ کرنے کے لیے فلسطینی اسیران کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض ریاست کی طرف سے اسیران کے خلاف ظالمانہ انتقامی کارروائیاں قابض فوج کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔ قیدیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے تمام خطرناک نتائج کی ذمہ داری اسرائیلی دشمن پر عائد ہو گی۔

حماس نے جلبوع جیل سے چھ فلسطینی اسیران کے سرنگ کے ذریعے فرار کی تحسین کی اور کہا کہ اسیران نے دشمن سے اپنی آزادی چھین کر حاصل کی ہے۔  یہ ایک بہادرانہ اور مزاحمت اقدام ہے اور پوری دنیا کے آزادی پسندوں کے لیے ایک خوش کن پیغام ہے۔

بیان میں فلسطینی قوم پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فرار ہونے والے بہادر سپوتوں کو تحفظ فراہم کریں اور اسیران کی ثابت قدمی اور تحفظ کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

5:54 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔