اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

یہودیوں کے مذہبی تہوار کی آڑ میں مسجد ابراہیمی بند کردی گئی

شیعیت نیوز: اسرائیلی حکام نے یہودیوں کے مذہبی تہوار ’ایام توبہ‘ کی مذہبی رسومات کی آڑ میں فلسطین کی تاریخی مسجد حرم ابراہیمی کے دروازے فلسطینی مسلمانوں کے لیے بند کردیے ہیں۔

دوسری طرف فلسطینی محکمہ اوقاف نے مسجد ابراہیمی میں نماز اور اذان دینے پر اسرائیلی پابندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی امور میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔

ڈائریکٹر اوقاف کے مطابق قابض فوج نے مسجد ابراہیمی کے تمام ہال، صحن اور اس کی گیلریوں کو فلسطینیوں کے داخلے کے لیے بند کردیا ہے۔ جب تک یہودیوں کےعبرانی سال کے موقعے پر مذہبی تہوار کی تقریبات جاری رہتی ہیں مسجد میں فلسطینی مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کا صیہونی حکومت کو پندرہ روزہ الٹی میٹم

دوسری جانب درجنوں یہودی آباد کاروں نے کل منگل کے روز اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد قصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔

فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ منگل کویہودی آباد کاروں،اسرائیلی طلبا اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت درجنوں انتہا پسندوں نے  قبلہ اول میں گھس کراشتعال انگیز چکر لگائے۔

یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ اس موقعے پر انتہا پسند یہودی شرپسندوں کو مزعومہ ہیکل سلیمانی کے بارے میں مذہبی بریفنگ بھی دی گئی۔

خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کے کے دن کے علاوہ ہفتے کے باقی ایام میں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے والے اشتعال انگیز اقدامات اور حرکات کرتے ہیں۔

یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول پر دھاووں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے جب کہ فلسطینیوں کو قبلہ اول میں نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button