فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں کا صیہونی حکومت کو پندرہ روزہ الٹی میٹم

شیعیت نیوز: فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو پندرہ دن کا الٹی میٹم دیا ہے جس میں اسے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ اور شدت پسندانہ اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح اسلامی مزاحمتی گروہوں نے مصر کو بھی ایک اہم خط لکھا ہے۔ غزہ کی پٹی ان دنوں انتہائی نازک حالات کا شکار ہے اور ہر لمحہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ بھرپور جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
گیارہ دن تک جاری رہنے والا شمشیر القدس معرکہ مصر کی ثالثی سے جنگ بندی پر منتج ہوا تھا لیکن اسرائیل کی غاصب صیہونی حکومت اس وقت سے اب تک جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتی آ رہی ہے۔ اب تک فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہ کئی بار غاصب صیہونی حکومت کو جنگ بندی کی شرائط پر عمل کرنے کی وارننگ دے چکے ہیں۔
مصر کی ثالثی میں انجام پانے والی جنگ بندی میں طے پایا تھا کہ غاصب صیہونی حکومت غزہ کی پٹی کے خلاف ظالمانہ محاصرے میں نرمی لائے گی لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی مصر نے اس کی کوئی ضمانت فراہم کی ہے۔ غاصب صیہونی حکام نے نہ صرف غزہ کے خلاف محاصرے میں نرمی نہیں کی بلکہ آئے دن اسے فضائی حملوں کا نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : جلبوع جیل سے قیدیوں کے فرار کا معمہ، کھدائی کی مٹی کہاں گئی، چمچ کہاں چھپائی گئی؟
اسی طرح صیہونی حکام نے فلسطینی مچھیروں اور تاجروں پر بھی شدید دباو ڈال رکھا ہے۔ فلسطین کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے مصر کے حساس اداروں کو بھی خط لکھا ہے جس میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات انجام دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔
اس خط میں مصری حکام کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسلامی مزاحمت کے پاس ظالم صیہونی حکومت کے خلاف بہت سے آپشنز موجود ہیں اور ہم اس حکومت کی شدت پسندی مزید برداشت نہیں کریں گے۔
مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر بھی غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید برہم ہے۔
حال ہی میں ایک اسرائیلی وفد نے مصر کا دورہ کیا ہے جس میں مصری حکام نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
مصری حکام نے صیہونی وفد سے غزہ کے خلاف محاصرہ نرم کرنے اور جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن صہیونی حکمران حتی مسجد اقصی اور بیت المقدس کی بے حرمتی اور شدت پسندانہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید برآں، مقبوضہ فلسطین اور قدس شریف میں مقیم مسلمان فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کر کے ان کے گھر بھی مسمار کئے جا رہے ہیں۔
اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے پندرہ دن کے الٹی میٹم سے مقبوضہ فلسطین میں ایک اور جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔