محمود عباس اور بینی گینٹز ملاقات کا نتیجہ صفر رہا، فلسطینی رہنما احمد غنیم

شیعیت نیوز: تحریک فتح کے ایک سرکردہ رہنما احمد غنیم نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز اور صدر محمود عباس کے درمیان رام اللہ میں ہونے والی ملاقات کا نتیجہ صفر رہا ہے۔
احمد غنیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی ملاقاتیں عمومی تعلقات کی شکل ہیں۔ اس ملاقات کے بعد اس کے بارے میں جس نوعیت کی تشہیر کی گئی ہے وہ پرلے درلے کا دھوکہ نئے اوہان کی سودا گری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک بار پھر دھوکوں کی سودے بازی کےلیے آئے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ دھوکہ دہی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
تحریک فتح کے رہنما نے کہا کہ میرے لیے اہم اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ فلسطینیوں سے نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینی ریاست کے بارے میں کوئی بات چیت ہوگی۔ نہ آج اور نہ ہی کل۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات صرف امریکی صدر جوبائیڈن سے اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات کے لیے حالات مو ہموار کرنا تھا اور فلسطینی سطح پر موجودہ خلا کواور بھی گہرا کرنا تھا۔ تاہم اس کا نتیجہ صفر تھا۔
یہ بھی پڑھیں : بحرینی عوام اسرائیل کے ساتھ روابط کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے
دوسری جانب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایک فلسطینی خاتون قیدی 5 سال تک اسرائیل کی جیل میں رہنے کے بعد کل رہا ہو گئی۔
شہاب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدی آیات محفوظ 5 سال تک صیہونی حکومت کی جیل میں سختیاں جھیلنے اور ٹارچر ہونے کے بعد جعمرات کو رہا ہوئیں۔
اس فلسطینی خاتون قیدی کی رہائی ایسے میں عمل میں آئی کہ جب حماس نے کہا ہے کہ وہ تیار ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے بدلے فلسطین کی عورتوں، بچوں اور بیمار قیدیوں کا تبالہ کرے۔ اس سے قبل حماس نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں سے کہا تھا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے اسرائیل پر دباو ڈالیں۔
واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں 4 ہزار 850 فلسطینی قیدی ہیں کہ جن میں سے 41 خواتین اور 225 نوجوان قیدی ہیں۔ جبکہ 250 ایسے قیدی بھی ہیں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے۔